Majid Siddiqui

ماجد صدیقی

ماجد صدیقی کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    خس و خاشاک بھی کب کے ہیں بھنور سے نکلے

    خس و خاشاک بھی کب کے ہیں بھنور سے نکلے اک ہمیں ہیں کہ نہیں نرغۂ شر سے نکلے زخم وہ کھل بھی تو سکتا ہے سلایا ہے جسے ہم بھلا کب ہیں حد خوف و خطر سے نکلے یہ سفر اپنا کہیں جانب محشر ہی نہ ہو ہم لیے کس کا جنازہ ہیں یہ گھر سے نکلے کل جو ٹپکے تھے سر کوچۂ کوتہ نظراں اشک اب کے بھی وہی دیدۂ ...

    مزید پڑھیے

    ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا

    ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا یہ بات اور ہے جاری تھا جو سفر نہ رہا شب سیاہ میں بھی جو تھا روشنی کا سفیر کنار بام سے وہ جھانکتا قمر نہ رہا لگی تھیں جس پہ نگاہیں نہ جانے کس کس کی مریض پر وہی تعویذ کار گر نہ رہا یقیں تھا جو بھی وہ اب گرد اشتباہ میں ہے یہ کیا ہوا کہ کوئی شخص معتبر ...

    مزید پڑھیے

    عرش سے رخ جانب دنیائے دوں کرنا پڑا

    عرش سے رخ جانب دنیائے دوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا منت ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہر سکوں کرنا پڑا سامنے اس یار کے بھی اور سر دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہل صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ ...

    مزید پڑھیے

    جذبوں کو زبان دے رہا ہوں

    جذبوں کو زبان دے رہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نم خاک بن کے جیسے فصلوں کو اٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں ان کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حد جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ...

    مزید پڑھیے

    دل سے تیروں کا اور کمانوں کا

    دل سے تیروں کا اور کمانوں کا خوف جاتا نہیں مچانوں کا ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا رت بدلنے کی کیا بشارت دے ایک سا رنگ گلستانوں کا کون اپنا ہے اک خدا وہ بھی رہنے والا ہے آسمانوں کا بات ماجدؔ کی پوچھتے کیا ہو شخص ہے اک گئے زمانوں کا

    مزید پڑھیے

تمام