Majid Deobandi

ماجد دیوبندی

ماجد دیوبندی کی غزل

    کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں

    کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں دیار غیر میں ٹھنڈک وطن سی پاتا ہوں میں جب بھی تجزیہ کرتا ہوں تیرا اے دنیا اس آئینے میں تجھے بد چلن سی پاتا ہوں خدا کرے کہ مرے دوست خیریت سے ہوں عجیب طرح کی دل میں چبھن سی پاتا ہوں بدلنے والا ہے شاید مزاج موسم کا جبین وقت کو میں پرشکن سی پاتا ...

    مزید پڑھیے

    آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

    آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو سر اٹھا کر چلنے والو خاکساری سیکھ لو پیش خیمہ ہیں تنزل کا تکبر اور غرور مرتبہ چاہو تو پہلے انکساری سیکھ لو خود بدل جائے گا نفرت کی فضاؤں کا مزاج پیار کی خوشبو لٹاؤ مشکباری سیکھ لو چن لو قرطاس و قلم یا تیغ کر لو انتخاب کوئی فن اپناؤ لیکن ...

    مزید پڑھیے

    لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے

    لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے سچائی کی اپنی ریت پرانی ہے لب پر آہ مسلسل آنکھ میں پانی ہے تنہائی کا ہر لمحہ نقصانی ہے شور ہمیشہ رہتا ہے اس کوچے میں دل ہے یا سینے میں اک زندانی ہے جس کو چاہیں بے عزت کر سکتے ہیں آپ بڑے ہیں آپ کو یہ آسانی ہے کمزوروں پر رحمت بن کر چھا جاؤ میرا ...

    مزید پڑھیے

    جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

    جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے بالکل ایسا میرا گھر سے رشتہ ہے میری آنکھیں کچھ سوئی سی رہتی ہیں شاید ان کا خواب نگر سے رشتہ ہے تجھ کو کیسے بھول سکے گا دل میرا تیرا میرا تو اندر سے رشتہ ہے اے شہزادی ساتھ ہمارے مت چلنا بنجاروں کا دھوپ سفر سے رشتہ ہے لوح فلک پر لکھی ہے جس کی عزت ہم ...

    مزید پڑھیے

    نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم ترے حوالے سے

    نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم ترے حوالے سے وہی ہے درد کا عالم ترے حوالے سے کھلے جو زخم کے ٹانکے تو یہ ہوا محسوس صبا نے رکھ دیا مرہم ترے حوالے سے وہی ہے دل کا تڑپنا وہی ہے کیفیت وہی مزاج ہے پیہم ترے حوالے سے چلی ہے ہجر کے موسم میں جب بھی پروائی ہوئی ہے آنکھ مری نم ترے حوالے سے خزاں کا ...

    مزید پڑھیے