مجید میمن کی غزل

    مایوس ہو کے بزم سے تیری نکل کے ہم

    مایوس ہو کے بزم سے تیری نکل کے ہم شدت سے منتظر ہیں پیام اجل کے ہم توبہ تو کی تھی ہم نے کسی کے سجھاؤ پر پی لیں گے آج توبہ ارادہ بدل کے ہم تب شعلۂ وفا کی ترے روشنی ہوئی جب خاک ہو چکے تری فرقت میں جل کے ہم مسجد میں تھے تو واعظ و ملا کے بیچ تھے پہنچے جو میکدے میں تو ساغر میں چھلکے ...

    مزید پڑھیے

    گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا

    گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا معجزہ دیکھیے دن رات کو یکجا دیکھا یوں شب ہجر میں ان کو بھی تڑپتا دیکھا بستر مرگ پہ گویا کہ مسیحا دیکھا خود کو بھی حسن کا دیوانہ سمجھ بیٹھا ہے اس پری چہرہ کا واعظ نے جو شیشہ دیکھا کشمکش قطرۂ آنسو کی تری پلکوں پر ہم نے گرتے ہوئے تارے کو لرزتا ...

    مزید پڑھیے

    دل کو ترے خیال سے بہلا رہا ہوں میں

    دل کو ترے خیال سے بہلا رہا ہوں میں یوں شام غم کو صبح کئے جا رہا ہوں میں واقف ہوں میری راہ کی منزل نہیں کوئی دیوانہ وار پھر بھی بڑھے جا رہا ہوں میں میں کہہ رہا ٹھہریے کہ ایسا بھی کیا ستم وہ کہہ رہے ہیں چھوڑیئے اب جا رہا ہوں میں سچ ہے کسی صنم کی عبادت گناہ ہے پھر بھی حسیں گناہ کئے ...

    مزید پڑھیے

    گل ہو صبا ہو شمع ہو شعلہ ہو چاندنی ہو تم

    گل ہو صبا ہو شمع ہو شعلہ ہو چاندنی ہو تم جھلکی تھی کوہ طور پر بس وہی روشنی ہو تم تم سے وجود ہے مرا حرکت قلب ہو تمہی قوت ذہن و دل ہو تم روح کی تازگی ہو تم وابستہ تم سے جو بھی ہوں مجھ کو وہ غم قبول ہیں بخشے سکوں جو دائمی بس اک وہی خوشی ہو تم میرے تخیلات کی پرواز ہو گئی بلند جب سے نظر ...

    مزید پڑھیے

    زیست کی راہ میں جتنے مجھے گلزار ملے

    زیست کی راہ میں جتنے مجھے گلزار ملے ان میں دیکھا تو فقط دھول ملی خار ملے بس اسی وقت سے اہل جنوں کہلائے گئے اس حسیں بت سے جو اہل خرد اک بار ملے اے مسیحا تجھے اک بار پھر آنا ہوگا تیری دنیا میں مجھے سینکڑوں بیمار ملے شیخ صاحب ہی کہیں مجھ کو نہیں آئے نظر ورنہ ہر طرح کے جنت میں گنہ ...

    مزید پڑھیے

    کرو وہ کام جس سے ہر کسی کو فائدہ پہنچے

    کرو وہ کام جس سے ہر کسی کو فائدہ پہنچے بنو وہ شمع جس سے تیرہ بختی کو ضیا پہنچے ٹھہر کر سانس بھی ہم نے نہ لی جب گامزن تھے ہم جو رک رک کر چلے راہوں میں وہ منزل کو کیا پہنچے پلا کچھ اس طرح کہ لوٹ کر جانا نہ ہو ممکن کہ ٹھکرا کر دو عالم ہم یہاں تک ساقیا پہنچے جو کہتے تھے کہ گر ڈوبے بھی ...

    مزید پڑھیے

    بدلا ہوا ہے رنگ جہاں مے کشی کے بعد

    بدلا ہوا ہے رنگ جہاں مے کشی کے بعد خود سے لگاؤ ہونے لگا بے خودی کے بعد تابندہ محفلوں میں مجھے یوں نہ روکئے ظلمت میں لوٹنا ہے مجھے روشنی کے بعد یا رب مجھے محال ہے رنجیدہ زندگی لے لے میری حیات بھی میری خوشی کے بعد اس سے سوا بھی عشق میں کیا اور پائیے ہر غم لگے ہے سہل غم عاشقی کے ...

    مزید پڑھیے

    ظلم و ستم کی آگ میں جلتا رہا ہوں میں

    ظلم و ستم کی آگ میں جلتا رہا ہوں میں اپنے لہو میں جل کے ابلتا رہا ہوں میں یوں بھی نظام دہر بدلتا رہا ہوں میں اپنے لہو سے آگ اگلتا رہا ہوں میں انسانیت کی تیرگی ہو دور اس لئے قانون کی کتاب میں جلتا رہا ہوں میں مجھ کو نچوڑتی رہی تاریخ بار بار مثل مگس ہی شہد اگلتا رہا ہوں میں یوں ...

    مزید پڑھیے