Majeed Akhtar

مجید اختر

مجید اختر کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    نظر میں اک جہاں ہے اور تمنا کا جہاں وہ بھی

    نظر میں اک جہاں ہے اور تمنا کا جہاں وہ بھی جو طیر فکر ہے رہتا ہے ہر دم پرفشاں وہ بھی ذرا ٹھہرو کہ پڑھ لوں کیا لکھا موسم کی بارش نے مری دیوار پر لکھتی رہی ہے داستاں وہ بھی محبت میں دلوں پر جانے کب یہ سانحہ گزرا جگہ شک نے بنا لی اور ہمارے درمیاں وہ بھی سنو اے رفتگاں رہتا نہیں کچھ ...

    مزید پڑھیے

    بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے

    بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے پیار سے دیکھ چشم یار مجھے رات بھی چاند بھی سمندر بھی مل گئے کتنے غم گسار مجھے روشنی اور کچھ بڑھا جاؤں سوز غم اور بھی نکھار مجھے کچھ ہی دن میں بہار آ جاتی اور کرنا تھا انتظار مجھے دیکھ دنیا یہ پینترے نہ بدل دیکھ شیشے میں مت اتار مجھے آئینے میں نظر ...

    مزید پڑھیے

    دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی

    دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی یہ الگ بات ابھی کھل کے بغاوت نہیں کی ہم سزاوار جو ٹھہرے تو سبب ہے اتنا حکم حاکم پہ کبھی ہم نے اطاعت نہیں کی ہم نے مالک تجھے مانا ہے تو سچا مانا اس لیے تیری کبھی جھوٹی عبادت نہیں کی دوستی میں بھی فقط ایک چلن رکھا ہے دل نے انکار کیا ہے تو رفاقت ...

    مزید پڑھیے

    کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

    کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری مرے عزیز نہ اس کو کبھی قضا کیا کر اجالے کے لئے ہے چشم و دل کا آئینہ بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر بنام مذہب و ملت یہ خوں بہانا کیا ہری ہری وہ کریں تو خدا خدا کیا کر بجا ...

    مزید پڑھیے

    قصے مری آشفتہ نوائی کے بہت تھے

    قصے مری آشفتہ نوائی کے بہت تھے چرچے تری انگشت نمائی کے بہت تھے دنیا کی طلب ہی سے نہ فرصت ہوئی ورنہ ارمان ترے در کی گدائی کے بہت تھے کچھ دل ہی نہ مائل ہوا اس راہ پہ ورنہ سامان تو جنت کی کمائی کے بہت تھے کل شب مرے کردار پہ تنقید کی شب تھی کردار میں پہلو بھی برائی کے بہت تھے آزار ...

    مزید پڑھیے

تمام