نظر میں اک جہاں ہے اور تمنا کا جہاں وہ بھی
نظر میں اک جہاں ہے اور تمنا کا جہاں وہ بھی جو طیر فکر ہے رہتا ہے ہر دم پرفشاں وہ بھی ذرا ٹھہرو کہ پڑھ لوں کیا لکھا موسم کی بارش نے مری دیوار پر لکھتی رہی ہے داستاں وہ بھی محبت میں دلوں پر جانے کب یہ سانحہ گزرا جگہ شک نے بنا لی اور ہمارے درمیاں وہ بھی سنو اے رفتگاں رہتا نہیں کچھ ...