Maikash Hyderabadi

میکش حیدرآبادی

میکش حیدرآبادی کی نظم

    شاعر

    تو فقط جسم کے زخموں پہ تڑپ جاتا ہے میں ہر اک قلب میں سو زخم نہاں پاتا ہوں تو فقط رنگ کا دیوانہ ہے بو کا شیدا میں رگ گل میں بھی بلبل کا لہو پاتا ہوں تو فقط دل کی تڑپ رکھتا ہے سینے میں نہاں میں تڑپتا بھی ہوں اور تجھ کو بھی تڑپاتا ہوں تو فقط چلتا ہے منزل تجھے معلوم نہیں میں تجھے راہ عمل ...

    مزید پڑھیے

    بھوکے پیٹ

    رکتی سانسیں ہیں اور سینا موت کے پاؤں تلے ہے جینا اوگھٹ گھاٹ بھنور کے چکر ڈگ مگ ہے جیون کا سفینہ غم اور آنسو آنسو اور غم غم کھانا اور آنسو پینا برکھا رت ویرانوں کی ہے چاندنی قبرستانوں کی ہے من میں لہر کبھی اٹھتی تھی بات یہ اب افسانوں کی ہے جیسے سائے رینگ رہے ہوں حالت یہ انسانوں کی ...

    مزید پڑھیے

    اندھا

    سنتا ہے حسن شمس و قمر دیکھتا نہیں یعنی نظام شام و سحر دیکھتا نہیں اس کے بھی پیرہن پہ گناہوں کے داغ ہیں دنیا کو چاہتا ہے مگر دیکھتا نہیں اس کو بھی ہیں نصیب محبت کی لذتیں دل تھامتا ہے تیر نظر دیکھتا نہیں اس کے بھی دل میں آگ بھڑکتی ہے عشق کی جلتا ہے اور رقص شرر دیکھتا نہیں اس کے بھی سر ...

    مزید پڑھیے

    کسان

    برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے تصورات کی دنیا میں ساتھ لایا ہے ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر سیاہ ابر پہ رہ رہ کے اٹھ رہی ہے نظر پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں ہیں اس کی زیست کے اسرار پا کے ...

    مزید پڑھیے