Maikash Hyderabadi

میکش حیدرآبادی

میکش حیدرآبادی کے تمام مواد

4 نظم (Nazm)

    شاعر

    تو فقط جسم کے زخموں پہ تڑپ جاتا ہے میں ہر اک قلب میں سو زخم نہاں پاتا ہوں تو فقط رنگ کا دیوانہ ہے بو کا شیدا میں رگ گل میں بھی بلبل کا لہو پاتا ہوں تو فقط دل کی تڑپ رکھتا ہے سینے میں نہاں میں تڑپتا بھی ہوں اور تجھ کو بھی تڑپاتا ہوں تو فقط چلتا ہے منزل تجھے معلوم نہیں میں تجھے راہ عمل ...

    مزید پڑھیے

    بھوکے پیٹ

    رکتی سانسیں ہیں اور سینا موت کے پاؤں تلے ہے جینا اوگھٹ گھاٹ بھنور کے چکر ڈگ مگ ہے جیون کا سفینہ غم اور آنسو آنسو اور غم غم کھانا اور آنسو پینا برکھا رت ویرانوں کی ہے چاندنی قبرستانوں کی ہے من میں لہر کبھی اٹھتی تھی بات یہ اب افسانوں کی ہے جیسے سائے رینگ رہے ہوں حالت یہ انسانوں کی ...

    مزید پڑھیے

    اندھا

    سنتا ہے حسن شمس و قمر دیکھتا نہیں یعنی نظام شام و سحر دیکھتا نہیں اس کے بھی پیرہن پہ گناہوں کے داغ ہیں دنیا کو چاہتا ہے مگر دیکھتا نہیں اس کو بھی ہیں نصیب محبت کی لذتیں دل تھامتا ہے تیر نظر دیکھتا نہیں اس کے بھی دل میں آگ بھڑکتی ہے عشق کی جلتا ہے اور رقص شرر دیکھتا نہیں اس کے بھی سر ...

    مزید پڑھیے

    کسان

    برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے تصورات کی دنیا میں ساتھ لایا ہے ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر سیاہ ابر پہ رہ رہ کے اٹھ رہی ہے نظر پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں ہیں اس کی زیست کے اسرار پا کے ...

    مزید پڑھیے