Maikash Ajmeri

میکش اجمیری

میکش اجمیری کی غزل

    جب کبھی قتل آبرو ہوگا

    جب کبھی قتل آبرو ہوگا زرد چہرہ لہو لہو ہوگا چھوڑ بچے کو قتل سے باز آ یہ کسی ماں کی آرزو ہوگا پیٹھ میں جو چبھو گیا خنجر کوئی کم حوصلہ عدو ہوگا دل کے زخموں کی کھل رہی ہے زباں درد موضوع گفتگو ہوگا آنکھیں روشن دکھائی دیتی ہیں سامنے کوئی ماہ رو ہوگا

    مزید پڑھیے

    بہت دنوں سے کسی کے گلو کا پیاسا ہے

    بہت دنوں سے کسی کے گلو کا پیاسا ہے بچو کہ خنجر قاتل لہو کا پیاسا ہے شباب اپنا چھپا لے تو میرے دامن میں ہر ایک شخص تری آبرو کا پیاسا ہے جواں ہوا ہے مری شفقتوں کے سائے میں وہ شخص آج جو میرے لہو کا پیاسا ہے وہ عام چہروں کا مشتاق ہو نہیں سکتا جو ذوق دید کسی خوبرو کا پیاسا ہے ابھی ...

    مزید پڑھیے