مہتاب عالم کی غزل

    دیکھا جو سایہ شب میں یہ سمجھا نگاہ نے

    دیکھا جو سایہ شب میں یہ سمجھا نگاہ نے شاید وہ آج آ گئے وعدہ نباہنے ویراں سی اس نواح میں آتا ہی کون تھا آباد کر دیا ہے اسے قتل گاہ نے ان قاتلوں پہ کون مقدمہ چلائے گا جن کو لیا پناہ میں عالم پناہ نے ہر بات پہ جو مجھ سے یہ کہتے ہیں چپ رہو کیا اپنے حسن کو بھی نہ دیں گے سراہنے قائم ...

    مزید پڑھیے

    شفق بھی خون کی بوچھار سی ہے

    شفق بھی خون کی بوچھار سی ہے یہ سرخی شہر کے اخبار سی ہے کٹیلے ہیں ترے لفظ و بیاں سب قلم خنجر زباں تلوار سی ہے کسی بھی چیز میں لگتا نہیں دل طبیعت بن ترے بیزار سی ہے تم اپنے روپ سے خود آئنہ ہو تمہارے روبرو کیوں آرسی ہے یہ ساری قربتیں رسمی ہیں یعنی دلوں کے درمیاں دیوار سی ہے جو ہم ...

    مزید پڑھیے

    در تخیل کے مقفل نہیں ہونے دیتا

    در تخیل کے مقفل نہیں ہونے دیتا میں تجھے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتا نیند آتی ہے تو آنکھوں میں جگہ دیتا ہوں اپنی پلکوں کو میں بوجھل نہیں ہونے دیتا کس کو سیراب کرے گا وہ چھلکتا بادل جو مری پیاس کو جل تھل نہیں ہونے دیتا چھین لیتا ہے مصور کے سبھی ہوش و حواس حسن تصویر مکمل نہیں ...

    مزید پڑھیے

    غزل کا میری خاکہ دیکھتا ہے

    غزل کا میری خاکہ دیکھتا ہے جو اس گل کا سراپا دیکھتا ہے پلٹ کر جب مسیحا دیکھتا ہے مرے زخموں کو ہنستا دیکھتا ہے طلسمی ہیں نئے انساں کی آنکھیں کہ گھر میں رہ کے دنیا دیکھتا ہے وہی کردار زندہ ہے جو اپنی کہانی کو ادھورا دیکھتا ہے یہ سن کر میری نیندیں اڑ گئی ہیں کوئی میرا بھی سپنا ...

    مزید پڑھیے

    پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

    پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی الفاظ سے خوشبو ترے کردار کی نکلی جب بات مسیحا ترے گفتار کی نکلی نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی ہونٹوں کی ہنسی بن گئے جو زخم تھے دل میں صورت کوئی جب اور نہ اظہار کی ...

    مزید پڑھیے

    داغ سینہ مرکز تنویر ہے

    داغ سینہ مرکز تنویر ہے دل کا چھالا چاند کی تصویر ہے زندگی کیا ہے کوئی سمجھائے تو خواب ہے یا خواب کی تعبیر ہے چین سے زنداں میں بیٹھے اب جنوں پاؤں میں چکر نہیں زنجیر ہے پھونک دیں گی نفرتیں گھر آپ کا نام دروازے پہ کیوں تحریر ہے گھر کا اک نقشہ بنا لیتی ہے روز یہ جو دل میں حسرت ...

    مزید پڑھیے

    کیوں یاد یہ سب قحط کے اسباب نہ آئے

    کیوں یاد یہ سب قحط کے اسباب نہ آئے جب ہم نے دعا کی تھی کہ سیلاب نہ آئے ہم کو تو اترنا ہے سمندر کی تہوں میں ہاتھ آئے کہ اب گوہر نایاب نہ آئے تدبیر کے محور پہ رہا میں یونہی رقصاں تعبیر کے مرکز پہ مرے خواب نہ آئے باہر جو اٹھے شور تو کھڑکی سے نہ جھانکو آنکھوں پہ تمہاری کہیں تیزاب نہ ...

    مزید پڑھیے

    مرحبا تم بھی ضرورت سے ملے

    مرحبا تم بھی ضرورت سے ملے کون ہے اب جو محبت سے ملے زندگی نے جو دئے ہم کو سبق وہ کہاں پند و نصیحت سے ملے دل ملانے سے بھلا کیا حاصل جب طبیعت نہ طبیعت سے ملے ہائے وہ شہر اماں جس میں ہم روز اک تازہ قیامت سے ملے یہ جو پلکوں پہ سجے ہیں موتی سب ہمیں اس در دولت سے ملے کون ہوگا وہ بجز ...

    مزید پڑھیے