دیکھا جو سایہ شب میں یہ سمجھا نگاہ نے
دیکھا جو سایہ شب میں یہ سمجھا نگاہ نے شاید وہ آج آ گئے وعدہ نباہنے ویراں سی اس نواح میں آتا ہی کون تھا آباد کر دیا ہے اسے قتل گاہ نے ان قاتلوں پہ کون مقدمہ چلائے گا جن کو لیا پناہ میں عالم پناہ نے ہر بات پہ جو مجھ سے یہ کہتے ہیں چپ رہو کیا اپنے حسن کو بھی نہ دیں گے سراہنے قائم ...