Mahshar Lakhnavi

محشر لکھنوی

  • 1866 - 1935

محشر لکھنوی کی غزل

    واہ کیا خوب قدر کی دل کی

    واہ کیا خوب قدر کی دل کی نہ سنی تم نے ایک بھی دل کی ضبط فریاد میں کٹی شب ہجر شکر ہے بات رہ گئی دل کی مست ہیں نشۂ جوانی سے کیا خبر آپ کو کسی دل کی بڑھتا جاتا ہے طول گیسوئے یار گھٹتی جاتی ہے زندگی دل کی وہ زمانہ اب آیا ہے محشرؔ ہے ہر اک بزم میں ہنسی دل کی

    مزید پڑھیے