اب نہیں کوئی جبیں ماہ درخشاں کی طرح
اب نہیں کوئی جبیں ماہ درخشاں کی طرح اب کوئی آنکھ نہیں چشم غزالاں کی طرح اب کہیں بھی نظر آتے نہیں عارض کے گلاب اب کوئی زلف کہاں سنبل و ریحاں کی طرح اس بھرے شہر میں اب کوئی زلیخا ہی نہیں ایک چہرہ بھی نہیں صورت جاناں کی طرح کیجئے بھی تو کہاں اس رخ زیبا کی تلاش کوئی کوچہ ہی نہیں ...