Mahmood-ul-Hasan

محمود الحسن

محمود الحسن کی غزل

    اب نہیں کوئی جبیں ماہ درخشاں کی طرح

    اب نہیں کوئی جبیں ماہ درخشاں کی طرح اب کوئی آنکھ نہیں چشم غزالاں کی طرح اب کہیں بھی نظر آتے نہیں عارض کے گلاب اب کوئی زلف کہاں سنبل و ریحاں کی طرح اس بھرے شہر میں اب کوئی زلیخا ہی نہیں ایک چہرہ بھی نہیں صورت جاناں کی طرح کیجئے بھی تو کہاں اس رخ زیبا کی تلاش کوئی کوچہ ہی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    وفا کی راہ میں کس کا یہ نقش پا نکلا

    وفا کی راہ میں کس کا یہ نقش پا نکلا جبین شوق ترا آج حوصلہ نکلا سکوت آخر شب اور فسردگی دل کی بجھا بجھا سا تری یاد کا دیا نکلا کمی تھی کچھ تری بزم طرب میں کیا ساقی کہ جرعہ جرعہ بھلا کس کا حوصلہ نکلا کبھی برستے تھے لعل و گہر اسی گھر میں اسی مکاں سے مگر کاسۂ گدا نکلا کٹھن تھی راہ ...

    مزید پڑھیے

    رنگ گل اور لگا موج صبا اور لگی

    رنگ گل اور لگا موج صبا اور لگی کس کے آنے سے گلستاں کی فضا اور لگی آج مائل ہے وہ اکرام و عنایات پہ کیا کیوں ہمیں کوچۂ جاناں کی ہوا اور لگی لڑکھڑانے پہ کسے رقص کا ہوتا ہے گماں فصل گل آئی تو پھر لغزش پا اور لگی دل دھڑکنے کے ہیں آداب مگر تیرے حضور جانے کیوں سینے میں دھڑکن کی ادا اور ...

    مزید پڑھیے

    جب سے جنون شوق کے محور بدل گئے

    جب سے جنون شوق کے محور بدل گئے چہروں کے پھول قد کے صنوبر بدل گئے کیوں اپنے ساتھ دیدۂ حیراں کو لے گیا بچپن گیا تو حسن کے پیکر بدل گئے زہراب عشق پی نہ سکے بوالہوس کبھی کہنے کی بات ہے خم و ساغر بدل گئے سویا تو آنکھ میں ترے سپنے سما گئے جاگا تو رنگ خواب کے یکسر بدل گئے اے عمر رفتہ ...

    مزید پڑھیے

    شہر دل اجڑا تو برباد ہوا کیا کیا کچھ

    شہر دل اجڑا تو برباد ہوا کیا کیا کچھ نقش بر آب کی مانند مٹا کیا کیا کچھ درد دل کاہش جاں سوز دروں داغ جگر بے طلب تیری عنایت سے ملا کیا کیا کچھ اف یہ بیگانگی و ترک تعلق کا عذاب پا گئے ہم بھی وفاؤں کا صلہ کیا کیا کچھ کیسا انصاف ہے یہ کیسی عدالت ہے تری دی ہے ناکردہ خطاؤں کی سزا کیا ...

    مزید پڑھیے