Mahmood Sarosh

محمود سروش

  • 1911 - 1992

محمود سروش کی غزل

    دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر

    دی ہے اگر حیات تمنا کئے بغیر اب موت بھی عطا ہو تقاضا کئے بغیر بازار زندگی ہے فقط گھومنے کی جا کچھ بھی یہاں ملے گا نہ سودا کئے بغیر میں بھی انا پسند ہوں لیکن کروں تو کیا دل مانتا نہیں اسے سجدہ کئے بغیر جلوہ نمود جسم ہے اور جسم ہے حجاب پردے میں کوئی رہتا ہے پردہ کئے بغیر منسوب کس ...

    مزید پڑھیے

    شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا

    شیشۂ ساعت میں پیہم کروٹیں لیتا رہا میں بدلتے وقت کی گردش کا پیمانہ رہا شمع نے جل کر پریشاں کر دیا مرا وجود تیرگی تک مجھ سے وابستہ مرا سایا رہا دوسروں کو جو شکایت مجھ سے تھی بے جا نہ تھی میں وہ ہوں جس کو خود اپنے آپ سے شکوا رہا زندگی میں جانے کتنی بار آ کر ٹل گئی وہ اجل میں راہ جس ...

    مزید پڑھیے

    ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے

    ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے شاید ہے سوگوار بہاراں مرے لئے قطرے کو دے کے آب میرے دل کو احتیاج کیا کیا اٹھائے جاتے ہیں طوفاں مرے لئے کل وہ سنیں گے زیست کی کیفتیوں کا ذکر رکھا گیا ہے درد کا عنواں مرے لئے مبہم سا وعدہ آنے کا پھر قید انتظار گھر کو بنا دیا گیا زنداں مرے لئے شاخوں ...

    مزید پڑھیے

    پا کر شمیم گیسوئے جاناں صبا سے آج

    پا کر شمیم گیسوئے جاناں صبا سے آج ملتا نہیں دماغ گلوں کو ہوا سے آج عہدہ بر‌‌ آ جو ہونا تھا عہد وفا سے آج ہم کیا سبک سرا نہ ملے ہیں قضا سے آج کہہ دے یہ کوئی شیوۂ حاجت روا سے آج برگشتہ ہو کے بات نہ کرنا گدا سے آج جب ہے عمل فضول دعا غیر مستجاب تو ہاتھ اٹھائے لیتے ہیں ہم مدعا سے ...

    مزید پڑھیے

    ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں

    ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں کیا جانے زندگی کا گیا کارواں کہاں آرام لینے دیتا ہے دور زماں کہاں ٹھہرے جو راہ میں تو رکے کارواں کہاں بچتا ہے باڑھ باندھے سے بھی گلستاں کہاں رکتی ہے روکنے سے بھی آتی خزاں کہاں زنداں کہاں سلگتا ہوا آشیاں کہاں پہنچا سونامی لے کے کہاں سے دھواں ...

    مزید پڑھیے

    درس لیں گے دل کے اک بے ربط افسانے سے کیا

    درس لیں گے دل کے اک بے ربط افسانے سے کیا اہل دنیا چاہتے ہیں تیرے دیوانے سے کیا یہ جلا وہ بجھ گئی اور بات مگھم رہ گئی شمع کہنا چاہتی تھی اپنے پروانے سے کیا ہوش میں ہوتے تو اس کا جائزہ لیتے ضرور چھوڑ کر آئے ہیں کیا لائے ہیں میخانے سے کیا اب یہ حالت ہے کہ پی کر بھی نہیں ہوتا ...

    مزید پڑھیے

    ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں

    ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں یہ قید اچھی ہے میں عرض حال بھی نہ کروں کرم کرو مرا احساس چھین لو مجھ سے کہ میں تمہاری جفا کا خیال بھی نہ کروں جو التجا کو سمجھتے ہو احتجاج مرا تو کیا یہ چاہتے ہو میں سوال بھی نہ کروں

    مزید پڑھیے

    نہ ہو ٹھکانہ کوئی جس کا تیرے گھر کے سوا

    نہ ہو ٹھکانہ کوئی جس کا تیرے گھر کے سوا وہ اٹھ کے جائے کہاں تیری رہ گزر کے سوا دل حزیں کی تمنا نگاہ کے مطلوب خدا رکھے وہ سبھی کچھ ہیں چارہ گر کے سوا رضائے دوست تب و تاب سینۂ دشمن دعا کو اور بھی کچھ چاہئے اثر کے سوا وہ سوز دل کہ جسے لوگ جان کہتے ہیں نہیں ہے اور کوئی شے تری نظر کے ...

    مزید پڑھیے

    دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ

    دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ بستے ہیں اس دنیا میں بھی کیسے کیسے سیانے لوگ اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں دنیا کا کیا لیتے ہیں ہم سے آپ نہ الجھا کیجئے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ دل کا راز تھی سچی چاہت لیکن کیسے عام ہوئی ہم تو چپ بیٹھے ہیں لیکن کہتے ہیں افسانے لوگ پہلا پھیرا ...

    مزید پڑھیے

    اس موسم کے پھل کڑوے ہیں پھولوں میں بھی رنگ نہیں

    اس موسم کے پھل کڑوے ہیں پھولوں میں بھی رنگ نہیں طائر ہیں محتاج نشیمن نغموں میں آہنگ نہیں اس کے فتنوں کی سرکوبی صلح سے پہلے واجب ہے غیر کی پیدا کردہ شورش ہے آپس کی جنگ نہیں تیغوں کی جھنکار میں بھی اک وجد آور کیفیت ہے روح کو جولاں کرنے والے صرف رباب و چنگ نہیں فائدہ اس میں جو ہو ...

    مزید پڑھیے