قطرہ قطرہ خون کا شرح وفا بنتا گیا
قطرہ قطرہ خون کا شرح وفا بنتا گیا زندگی کا نقطہ نقطہ دائرہ بنتا گیا صدقے جاؤں آب و گل کی انفرادی شان پر چہرہ چہرہ ٹوٹ کر اک آئینہ بنتا گیا وقت کے ہم راہ جتنی دوریاں بڑھتی گئیں لمحہ لمحہ قربتوں کا سلسلہ بنتا گیا آفرینش سے رہا پرچم بغاوت کا بلند اور نظام زندگی کا ضابطہ بنتا ...