Mahmood Khawer

محمود خاور

  • 1945

محمود خاور کی غزل

    دھوپ اتری ہے نہ راہوں میں گھنا سایہ ہے

    دھوپ اتری ہے نہ راہوں میں گھنا سایہ ہے اب ترے بعد ترے شہر میں کیا رکھا ہے یوں تو تنہائی کا احساس ازل سے ہے ہمیں کچھ دنوں سے تو دل زار بہت تنہا ہے چاندنی ہو کا سماں ایک چھناکے کی صدا جھیل کا آئنہ کیا پچھلے پہر ٹوٹا ہے رت جگے ایسے منائے ہیں کہ جی جانتا ہے جام مہتاب کو آنکھوں نے بہت ...

    مزید پڑھیے