Mahmood Ishqi

محمود عشقی

محمود عشقی کی غزل

    خوشبو کی طرح شب کو مچلتا تھا گلبدن

    خوشبو کی طرح شب کو مچلتا تھا گلبدن بستر سے چن رہا ہوں میں ٹوٹے ہوئے بٹن خاک شفا کے نام سے مٹی کو بیچ کر کیا موج کر رہے ہیں امامان فکر و فن دیکھوں گا میں بھی چکھ کے ذرا زہر کا مزا تو اپنے ساتھ ساتھ مرا بھی تو کر جتن ورنہ پھر ان کو چین سے جینے نہ دیں گے لوگ شرفا کے واسطے بھی ہے لازم ...

    مزید پڑھیے

    اب راستے پہ کوئی رکاوٹ نہیں ترے (ردیف .. ا)

    اب راستے پہ کوئی رکاوٹ نہیں ترے بہتان کی چٹان کو میں نے ہٹا دیا فکروں کو چیرتے ہوئے تیرے خیال نے ٹوٹے ہوئے بدن میں نیا دل لگا دیا محفل میں مصلحت سے جو باتیں نہ کر سکا دانشوروں نے اس کو نشانہ بنا دیا کوچے میں یار لوگوں کا جب بڑھ گیا ہجوم اس نے بھی احتیاط کا پردہ گرا دیا چاندی سے ...

    مزید پڑھیے

    ہر طرف آج ہے ظلمات کا پہرا دیکھو

    ہر طرف آج ہے ظلمات کا پہرا دیکھو دل یہ کہتا ہے کوئی چاند سا چہرا دیکھو درد سرگم کا ہوا اور بھی گہرا دیکھو مسکراتے ہوئے پازیب کا لہرا دیکھو گرد اڑتی ہے نہ قدموں کی صدا آتی ہے قافلہ درد کا کس موڑ پہ ٹھہرا دیکھو اسے پایاب سمجھ کر نہ اتر جاؤ کہیں بحر خاموش ہوا کرتا ہے گہرا ...

    مزید پڑھیے

    دھل گئی شبنم سے لہو کی مٹھاس

    دھل گئی شبنم سے لہو کی مٹھاس صبح دم بھونرے ہوئے کتنے اداس پھر کوئی تیشہ چٹانوں پر چلا پھر کسی بت کی ولادت کی ہے آس دور سے تکتے رہے ننگے بدن ہو گئے شو کیس میں میلے لباس کوئی دروازہ نہ رہنے دو کھلا اب کوئی آنے نہ پائے میرے پاس

    مزید پڑھیے

    راستے پر ہے کائی کی مخمل

    راستے پر ہے کائی کی مخمل پاؤں تیرا کہیں نہ جائے پھسل ہات پھیلائے خشک پیڑوں نے دیکھ کر دور دودھیا بادل دل ہے خاموش جھیل کی صورت کنکری پھینکیے کہ ہو ہلچل سرفروشوں کو ہے تلاش اس کی چھپ گئی ہے کہاں پہ جا کے اجل کھول کر کاگ سوچ میں گم ہوں بڑبڑاتی ہے میز پر بوتل آپ کس پیڑ کو بچائیں ...

    مزید پڑھیے

    جسم روپوش تھے خاموش دعاؤں کی طرح

    جسم روپوش تھے خاموش دعاؤں کی طرح سائے پھرتے رہے سڑکوں پہ وباؤں کی طرح شاخ پر پھول کھلا میری پہنچ سے باہر بیل شرماتی ہے تیری ہی اداؤں کی طرح درد و غم ڈالتے رہتے ہیں مرے دل پہ کمند یادیں بھی لپٹی ہیں برگد کی جٹاؤں کی طرح شام کے وقت فضاؤں میں یہ اڑتے پنچھی گشت کرتے ہیں خلاؤں میں ...

    مزید پڑھیے

    سہمی سہمی دھواں دھواں یادیں (ردیف .. ل)

    سہمی سہمی دھواں دھواں یادیں نظر آتی نہیں ہے راہ وصال شب کی جیبیں بھری تھیں تاروں سے دن بھکاری کی طرح ہے کنگال شاہ بچنے لگا پیادے سے یہ مرے دائیں ہاتھ کا ہے کمال قہقہوں کی طرح اڑے پنچھی خاک پر لوٹتے پڑے ہیں جال منہ چھپائے جواب پھرتے ہیں سر اٹھا کر کھڑے ہوئے ہیں سوال

    مزید پڑھیے