خوشبو کی طرح شب کو مچلتا تھا گلبدن
خوشبو کی طرح شب کو مچلتا تھا گلبدن بستر سے چن رہا ہوں میں ٹوٹے ہوئے بٹن خاک شفا کے نام سے مٹی کو بیچ کر کیا موج کر رہے ہیں امامان فکر و فن دیکھوں گا میں بھی چکھ کے ذرا زہر کا مزا تو اپنے ساتھ ساتھ مرا بھی تو کر جتن ورنہ پھر ان کو چین سے جینے نہ دیں گے لوگ شرفا کے واسطے بھی ہے لازم ...