خواب اور خواب کا فسوں نہیں کچھ
خواب اور خواب کا فسوں نہیں کچھ آنکھ کھل جائے تو جنوں نہیں کچھ حسن کہتا ہے بات کر مجھ سے عشق کہتا ہے میں کہوں نہیں کچھ اور کچھ چاہیے محبت میں حالت حال دل زبوں نہیں کچھ رائیگاں جا رہے ہیں نقش مرے آئنہ خانہ ہی فزوں نہیں کچھ تو بہت احتیاط کرتا تھا تیرے ہاتھوں میں آج کیوں نہیں ...