محمود اظہر کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    خواب اور خواب کا فسوں نہیں کچھ

    خواب اور خواب کا فسوں نہیں کچھ آنکھ کھل جائے تو جنوں نہیں کچھ حسن کہتا ہے بات کر مجھ سے عشق کہتا ہے میں کہوں نہیں کچھ اور کچھ چاہیے محبت میں حالت حال دل زبوں نہیں کچھ رائیگاں جا رہے ہیں نقش مرے آئنہ خانہ ہی فزوں نہیں کچھ تو بہت احتیاط کرتا تھا تیرے ہاتھوں میں آج کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    جس تیقن سے جو لکھنا تھا نہیں لکھا گیا

    جس تیقن سے جو لکھنا تھا نہیں لکھا گیا آسماں کاٹ کے مٹی پہ زمیں لکھا گیا میری پیشانی دمکتی ہے ستاروں سے سوا تیرے ہاتھوں سے جہاں حرف یقیں لکھا گیا موج در موج سمندر سے ملاقات ہوئی خواب کو خواب سر سطح زمیں لکھا گیا عکس در عکس جو لکھنا تھا مجھے اس کا جمال آئنہ خانۂ حیرت کے تئیں لکھا ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہیں قیل و قال میں اے دوست

    کچھ نہیں قیل و قال میں اے دوست مست رہ اپنے حال میں اے دوست زندگی اس کا ذکر سنتے ہی آ گئی اشتعال میں اے دوست سانس لینا محال ہے یوں بھی اور ایسے وبال میں اے دوست کس قبیلے کے لوگ ہیں ہم لوگ خوش ہیں یعنی زوال میں اے دوست تیری صورت دکھائی پڑتی ہے کیا غزل کیا غزال میں اے دوست یاد ...

    مزید پڑھیے

    کون سمجھے گا مرے بعد اشارے اس کے

    کون سمجھے گا مرے بعد اشارے اس کے ٹوٹ کر خاک میں ملتے ہیں ستارے اس کے اب ہمیں آنکھ اٹھا کر نہیں تکتا وہ شخص کتنے مضبوط مراسم تھے ہمارے اس کے جو سمندر مرے اطراف رواں ہے سر خاک ڈھونڈھتا رہتا ہوں دن رات کنارے اس کے اس کا نقصان حقیقت میں مرا اپنا ہے میرے حصے ہی میں آتے ہیں خسارے اس ...

    مزید پڑھیے