Mahjabeen Asif

ماہ جبین آصف

ماہ جبین آصف کی نظم

    محبت کا سرکاری ملازم

    سانپ سیڑھی کھیل نے زہریلے سانپوں سے رنگوں کی کاشت کچھ یوں کی محبت سرکاری ملازم ہو گئی جو وقت پہ سوتی جاگتی کھاتی پیتی تو ہے لیکن کنڈلی مارے بیٹھی رہتی ہے زہریلے ناگ رنگین ہوتے جاتے ہیں اور محبت اور بھی خفتہ محبت کا سرکاری ملازم زہر باد چوس کر پھینکنے کے لیے اپنی نوکری کا حکم ...

    مزید پڑھیے

    بہار قرنطینہ میں ہے

    ضرورتوں بیمار فضا سے کہہ دو ابھی خوشبو کو گلاب رنگوں کو خواب رگوں میں جمے سیال کو لہو لکھنا ہے بے کیف و ساکت منظر کو خوش خصال لکھنا ہے ان چڑیوں کو لوٹنے دو فضا کے حبس میں جو محصور ہیں ضرورتوں کو سرخ گلال لکھنا ہے اس کرلاتی خاموشی سے بہتے سر نکلنے دو تنہائی کو جشن طرب دوست کو یاد ...

    مزید پڑھیے