Mahir Al-Hameedi

ماہر الحمیدی

ماہر الحمیدی کی غزل

    اے اسیران طلسم شب غم سو جاؤ

    اے اسیران طلسم شب غم سو جاؤ شمع امید کی لو ہو گئی کم سو جاؤ چاند تاروں کی چمک ہو گئی کم سو جاؤ سرحد صبح میں ہیں شب کے قدم سو جاؤ اب نہ جاگو کسی گزری ہوئی شب کی یادو تم کو ہم جاگنے والوں کی قسم سو جاؤ بجھ گئی شمع بھی پروانے بھی دم توڑ چکے ان کے آنے کی اب امید ہے کم سو جاؤ ڈبڈبائی ...

    مزید پڑھیے

    قدم قدم پہ عجب حادثات غم گزرے

    قدم قدم پہ عجب حادثات غم گزرے جہاں جہاں سے تری جستجو میں ہم گزرے غم حیات کو لے کر جدھر سے ہم گزرے ہجوم حادثہ نو بہ نو بہم گزرے نہ راس آئے مری زندگی مجھے اے دوست کبھی گراں جو مرے دل پہ تیرا غم گزرے قدم قدم پہ ہوا امتحان ہوش و خرد خدا کا شکر کہ دامن بچا کے ہم گزرے نظر میں رقص کناں ...

    مزید پڑھیے

    سکون قلب کے اسباب ہم پہ بند رہے

    سکون قلب کے اسباب ہم پہ بند رہے مگر ہم اہل محبت وفا پسند رہے قدم قدم پہ سجائے گئے تھے دار و رسن خدا کا شکر کہ ہم پھر بھی سر بلند رہے وہ اک ہمیں تھے جو شرمندۂ کرم نہ ہوئے وہ ننگ عشق تھے جو التجا پسند رہے ترے ستم نے مرے دل کو حوصلہ بخشا خدا کرے کہ ترا حوصلہ بلند رہے زباں سے طاقت ...

    مزید پڑھیے