Mahir Al-Hameedi

ماہر الحمیدی

ماہر الحمیدی کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    اے اسیران طلسم شب غم سو جاؤ

    اے اسیران طلسم شب غم سو جاؤ شمع امید کی لو ہو گئی کم سو جاؤ چاند تاروں کی چمک ہو گئی کم سو جاؤ سرحد صبح میں ہیں شب کے قدم سو جاؤ اب نہ جاگو کسی گزری ہوئی شب کی یادو تم کو ہم جاگنے والوں کی قسم سو جاؤ بجھ گئی شمع بھی پروانے بھی دم توڑ چکے ان کے آنے کی اب امید ہے کم سو جاؤ ڈبڈبائی ...

    مزید پڑھیے

    قدم قدم پہ عجب حادثات غم گزرے

    قدم قدم پہ عجب حادثات غم گزرے جہاں جہاں سے تری جستجو میں ہم گزرے غم حیات کو لے کر جدھر سے ہم گزرے ہجوم حادثہ نو بہ نو بہم گزرے نہ راس آئے مری زندگی مجھے اے دوست کبھی گراں جو مرے دل پہ تیرا غم گزرے قدم قدم پہ ہوا امتحان ہوش و خرد خدا کا شکر کہ دامن بچا کے ہم گزرے نظر میں رقص کناں ...

    مزید پڑھیے

    سکون قلب کے اسباب ہم پہ بند رہے

    سکون قلب کے اسباب ہم پہ بند رہے مگر ہم اہل محبت وفا پسند رہے قدم قدم پہ سجائے گئے تھے دار و رسن خدا کا شکر کہ ہم پھر بھی سر بلند رہے وہ اک ہمیں تھے جو شرمندۂ کرم نہ ہوئے وہ ننگ عشق تھے جو التجا پسند رہے ترے ستم نے مرے دل کو حوصلہ بخشا خدا کرے کہ ترا حوصلہ بلند رہے زباں سے طاقت ...

    مزید پڑھیے