اے اسیران طلسم شب غم سو جاؤ
اے اسیران طلسم شب غم سو جاؤ شمع امید کی لو ہو گئی کم سو جاؤ چاند تاروں کی چمک ہو گئی کم سو جاؤ سرحد صبح میں ہیں شب کے قدم سو جاؤ اب نہ جاگو کسی گزری ہوئی شب کی یادو تم کو ہم جاگنے والوں کی قسم سو جاؤ بجھ گئی شمع بھی پروانے بھی دم توڑ چکے ان کے آنے کی اب امید ہے کم سو جاؤ ڈبڈبائی ...