Mahesh Shukla

مہیش شکلا

  • 1957

مہیش شکلا کی غزل

    ابھر کر فلک تک جو آئے ہوئے ہیں

    ابھر کر فلک تک جو آئے ہوئے ہیں وہ صدیوں کے گہرے دبائے ہوئے ہیں لحافوں کی سوچو الاؤں کی چھوڑو کہ بادل فضاؤں پہ چھائے ہوئے ہیں ہیں کاغذ پہ میرے عبارت کے دھبے تمہارے قلم کے لگائے ہوئے ہیں کمال ہنر ہے قفس میں ہیں لیکن قفس کو چمن ہم بنائے ہوئے ہیں ہے جانا جو ان کو بہت دور واپس یہاں ...

    مزید پڑھیے