Maher Chand Kausar

مہر چند کوثر

مہر چند کوثر کی غزل

    آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں

    آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں زنداں تو وہی ہے در و دیوار نئے ہیں اخلاص مکینوں کا تو دیکھا نہیں اب تک ہاں شہر کے سب کوچہ و بازار نئے ہیں دشمن سے تو کچھ خوف نہ اب ہے نہ کبھی تھا ڈر یہ ہے کہ اب میرے طرفدار نئے ہیں باقی نہیں پہلی سی وہ تقدیس محبت اب حسن نیا اس کے پرستار نئے ...

    مزید پڑھیے

    نہ جانے کون ہے دیکھا ہوا سا لگتا ہے

    نہ جانے کون ہے دیکھا ہوا سا لگتا ہے اک اجنبی ہے مگر آشنا سا لگتا ہے تضاد صورت و سیرت پہ اب یقیں آیا وہ بے وفا ہے مگر باوفا سا لگتا ہے گراں نہ گزرا تھا ایسا یہ انتظار کبھی اب ایک لمحہ بھی صبر آزما سا لگتا ہے انہیں امید ہو تعمیل کی تو کیوں کر ہو کہ ان کا حکم ہی کچھ التجا سا لگتا ...

    مزید پڑھیے

    چرچے ترے خلوص کے دنیا میں کم نہ تھے

    چرچے ترے خلوص کے دنیا میں کم نہ تھے پھر بھی ترے کرم کے سزاوار ہم نہ تھے ہوگا کوئی شریر سا جھونکا نسیم کا جس نے تری نقاب اٹھائی وہ ہم نہ تھے مضمر تھیں تیرے جور میں تیری عنایتیں تیرے ستم بھی تیری نوازش سے کم نہ تھے اس راستے پہ چھوڑ گیا راہ بر مجھے جس راستے پہ آپ کے نقش قدم نہ ...

    مزید پڑھیے

    ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں

    ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں ان سے اظہار تمنا بھی نہیں وقت کٹتا ہی نہ تھا جس کے بغیر اس کو مدت ہوئی دیکھا بھی نہیں جیسی گزری ہے غنیمت ہے مگر زندگی تیرا بھروسہ بھی نہیں دل میں رکھتا ہے بہت کچھ لیکن بات کہنے کی وہ کہتا بھی نہیں خوب سج دھج ہے تمہاری پھر بھی دیکھنا کیسا وہ تکتا بھی ...

    مزید پڑھیے

    آپس میں کوئی ربط کا امکان بھی نہ تھا

    آپس میں کوئی ربط کا امکان بھی نہ تھا دونوں طرف یہ مرحلہ آسان بھی نہ تھا چارہ گروں کی پرسش پیہم کے باوجود میں مطمئن نہ تھا تو پریشان بھی نہ تھا پہلو بدل بدل کے وہ کرتا تھا گفتگو میں سب سمجھ رہا تھا کہ انجان بھی نہ تھا بات اس کی دل میں میرے اترتی چلی گئی وہ اجنبی تھا اور مرا مہمان ...

    مزید پڑھیے

    دیکھتا بھی ہے دیکھتا بھی نہیں

    دیکھتا بھی ہے دیکھتا بھی نہیں جیسے وہ مجھ کو جانتا بھی نہیں کس طرح آج خود کو پہچانوں میرے گھر میں تو آئنہ بھی نہیں دھاک تھی سارے شہر میں جس کی اب اسے کوئی پوچھتا بھی نہیں پیچھے مڑنے میں خوف رسوائی آگے جانے کا راستہ بھی نہیں روز خبروں میں نام آتا ہے شہر میں کوئی جانتا بھی ...

    مزید پڑھیے

    پھر مجھے حوصلہ عرض و بیاں مل جائے

    پھر مجھے حوصلہ عرض و بیاں مل جائے کچھ دنوں کے لئے مجھ کو بھی زباں مل جائے سامنا ہوگا تو کچھ کہہ نہ سکیں گے اس سے جانے اس بھیڑ میں وہ شوخ کہاں مل جائے اجنبی گاؤں میں پھرتا ہوں یہ امید لئے چھاؤں درکار ہے تھوڑی سی جہاں مل جائے کیا تماشہ ہے کہ میں قصد نشیمن لے کر گھر سے نکلوں تو مجھے ...

    مزید پڑھیے

    بھرے جہاں میں کوئی رازدار بھی نہ ملا

    بھرے جہاں میں کوئی رازدار بھی نہ ملا قرار ڈھونڈنے نکلے قرار بھی نہ ملا یہ میری سوختہ بختی نہیں تو پھر کیا ہے وہ پھول لائے تو میرا مزار بھی نہ ملا نہ جانے کیسی کرامت تھی دست ساقی میں بہ قید ہوش کوئی ہوشیار بھی نہ ملا چمن چمن میں اداسی کا بول بالا ہے بہار کیسی نشان بہار بھی نہ ...

    مزید پڑھیے

    یوں شب ہجر تیری یاد آئی

    یوں شب ہجر تیری یاد آئی دور بجتی ہو جیسے شہنائی آپ اپنی ہنسی اڑاتا ہوں خود تماشہ ہوں خود تماشائی جب زمانے نے ساتھ چھوڑ دیا اپنی دیوانگی ہی کام آئی کل جنوں کا مذاق اڑاتی تھی اب جنوں سے خجل ہے دانائی آئنہ دل کا چور چور ہوا اور آواز تک نہیں آئی کتنا اٹھلا کے چل رہی ہے صبا تیرا ...

    مزید پڑھیے

    تصویر میں رنگ بھر رہے ہیں

    تصویر میں رنگ بھر رہے ہیں ملنے کا ارادہ کر رہے ہیں خوشیاں ہی نہیں تھیں ساتھ میرے غم بھی میرے ہم سفر رہے ہیں آنکھیں تو کھلی ہوئی تھیں پھر بھی ہر بات سے بے خبر رہے ہیں کوئی راحت ملی نہ اہل فن کو آرام سے بے ہنر رہے ہیں باقی نہیں دل میں شوق پرواز مدت سے بے بال و پر رہے ہیں اردو سی ...

    مزید پڑھیے