Maher Chand Kausar

مہر چند کوثر

مہر چند کوثر کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں

    آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں زنداں تو وہی ہے در و دیوار نئے ہیں اخلاص مکینوں کا تو دیکھا نہیں اب تک ہاں شہر کے سب کوچہ و بازار نئے ہیں دشمن سے تو کچھ خوف نہ اب ہے نہ کبھی تھا ڈر یہ ہے کہ اب میرے طرفدار نئے ہیں باقی نہیں پہلی سی وہ تقدیس محبت اب حسن نیا اس کے پرستار نئے ...

    مزید پڑھیے

    نہ جانے کون ہے دیکھا ہوا سا لگتا ہے

    نہ جانے کون ہے دیکھا ہوا سا لگتا ہے اک اجنبی ہے مگر آشنا سا لگتا ہے تضاد صورت و سیرت پہ اب یقیں آیا وہ بے وفا ہے مگر باوفا سا لگتا ہے گراں نہ گزرا تھا ایسا یہ انتظار کبھی اب ایک لمحہ بھی صبر آزما سا لگتا ہے انہیں امید ہو تعمیل کی تو کیوں کر ہو کہ ان کا حکم ہی کچھ التجا سا لگتا ...

    مزید پڑھیے

    چرچے ترے خلوص کے دنیا میں کم نہ تھے

    چرچے ترے خلوص کے دنیا میں کم نہ تھے پھر بھی ترے کرم کے سزاوار ہم نہ تھے ہوگا کوئی شریر سا جھونکا نسیم کا جس نے تری نقاب اٹھائی وہ ہم نہ تھے مضمر تھیں تیرے جور میں تیری عنایتیں تیرے ستم بھی تیری نوازش سے کم نہ تھے اس راستے پہ چھوڑ گیا راہ بر مجھے جس راستے پہ آپ کے نقش قدم نہ ...

    مزید پڑھیے

    ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں

    ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں ان سے اظہار تمنا بھی نہیں وقت کٹتا ہی نہ تھا جس کے بغیر اس کو مدت ہوئی دیکھا بھی نہیں جیسی گزری ہے غنیمت ہے مگر زندگی تیرا بھروسہ بھی نہیں دل میں رکھتا ہے بہت کچھ لیکن بات کہنے کی وہ کہتا بھی نہیں خوب سج دھج ہے تمہاری پھر بھی دیکھنا کیسا وہ تکتا بھی ...

    مزید پڑھیے

    آپس میں کوئی ربط کا امکان بھی نہ تھا

    آپس میں کوئی ربط کا امکان بھی نہ تھا دونوں طرف یہ مرحلہ آسان بھی نہ تھا چارہ گروں کی پرسش پیہم کے باوجود میں مطمئن نہ تھا تو پریشان بھی نہ تھا پہلو بدل بدل کے وہ کرتا تھا گفتگو میں سب سمجھ رہا تھا کہ انجان بھی نہ تھا بات اس کی دل میں میرے اترتی چلی گئی وہ اجنبی تھا اور مرا مہمان ...

    مزید پڑھیے

تمام