آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں
آئین اسیری کے یہ معیار نئے ہیں زنداں تو وہی ہے در و دیوار نئے ہیں اخلاص مکینوں کا تو دیکھا نہیں اب تک ہاں شہر کے سب کوچہ و بازار نئے ہیں دشمن سے تو کچھ خوف نہ اب ہے نہ کبھی تھا ڈر یہ ہے کہ اب میرے طرفدار نئے ہیں باقی نہیں پہلی سی وہ تقدیس محبت اب حسن نیا اس کے پرستار نئے ...