Mahender Kumar Sani

مہندر کمار ثانی

نئی نسل کے ممتاز ترین شاعروں میں نمایاں۔ ابھرتے ہوئے نقاد

One of the most prominent poets of younger generation. Also a promising critic.

مہندر کمار ثانی کی غزل

    وہی اداس سی آنکھیں اداس چہرہ ہے

    وہی اداس سی آنکھیں اداس چہرہ ہے یہ لگ رہا ہے کہ پہلے بھی تجھ کو دیکھا ہے میں چاہتا ہوں کہ تیری طرف نہ دیکھوں میں مری نظر کو مگر تو نے باندھ رکھا ہے چھپا کے رکھتا ہوں میں خود کو ہر طرح لیکن یہ آئنہ مجھے حیرت میں ڈال دیتا ہے تمہاری بات پہ کس کو یقین آئے گا کسی سے تم نہ یہ کہنا خدا ...

    مزید پڑھیے

    یہ خاموشی مرے کمرے میں کس آواز کی ہے

    یہ خاموشی مرے کمرے میں کس آواز کی ہے کہیں یوں تو نہیں تو بات کرنا چاہتی ہے وہ کیا شے ہے جسے میں ڈھونڈتا ہوں خود سے باہر یہیں گھر میں کوئی اک شے بھلا رکھی ہوئی ہے میں تنہائی کو اپنا ہم سفر کیا مان بیٹھا مجھے لگتا ہے میرے ساتھ دنیا چل رہی ہے کبھی دیوار لگتی ہے مجھے یہ ساری ...

    مزید پڑھیے

    کنارے توڑ کے باہر نکل گیا دریا

    کنارے توڑ کے باہر نکل گیا دریا لکیر چھوڑ کے یہ کس طرف چلا دریا اب اس سے پہلے سمندر سے جا کے مل پاتا خود اپنی پیاس میں ہی غرق ہو گیا دریا مرے بدن کا سمندر تو خشک ہوتا گیا رواں دواں ہی رہا میری سوچ کا دریا اسے کبھی نہ سمندر کی جستجو ہوتی تہوں میں اپنی اتر کر جو دیکھتا دریا خلوص ہے ...

    مزید پڑھیے

    صحرا سے ندی کے سفر میں رواں تھی خاک

    صحرا سے ندی کے سفر میں رواں تھی خاک یعنی اپنی اصل میں اک امکاں تھی خاک ایسی تازہ کاری اس بوسیدہ ورق پر میری شکل میں آنے سے پہلے کہاں تھی خاک ہوا اڑائی اس نے اک اک عالم کی یہ اس دور کی بات ہے جب کہ جواں تھی خاک اک خوشبو کی زد میں تھا اس کا ہر رقص اور اسی خوشبو کے لیے مکاں تھی ...

    مزید پڑھیے

    رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں

    رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں کام کیا میرا یہاں ہے سوچتا رہتا ہوں میں باہر اندر کے جہانوں سے ملا مجھ کو فراغ تیسری دنیا کے چکر کاٹتا رہتا ہوں میں ایک بے خوفی مجھے لے آئی ساحل کے قریب آ کے اب نزدیک ساحل کے ڈرا رہتا ہوں میں جانے کیسی روشنی تھی کر گئی اندھا مجھے اس ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیا ہوا ہے رات کو کیونکر نڈھال ہے

    یہ کیا ہوا ہے رات کو کیونکر نڈھال ہے میری ہی طرح چاند فلک پر نڈھال ہے دیوار و در نے رنگوں سے دامن چھڑا لیا یک رنگئ سکوت سے کیوں گھر نڈھال ہے اس سے ہزار دریا لپٹنے کو منتظر پھر کس کے انتظار میں ساگر نڈھال ہے باہر نکل کے دیکھ تری آرزو میں کوئی کب سے پڑا ہوا ترے در پر نڈھال ہے اب ...

    مزید پڑھیے

    صدا و خامشی کے درمیاں ٹھہرتا ہے

    صدا و خامشی کے درمیاں ٹھہرتا ہے ترا خیال سخن میں کہاں ٹھہرتا ہے ہماری قید ہمارے اسی خیال سے ہے ہمارے راستے میں اک مکاں ٹھہرتا ہے روش روش جو ہے پیدا نظر کے سامنے وہ ذرا سا دیکھنے پر سب نہاں ٹھہرتا ہے اگر وہ وصل کا لمحہ ہمیں میسر ہو تو سارا عشق ہی کار زیاں ٹھہرتا ہے ٹھہر کے دیکھ ...

    مزید پڑھیے

    اسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے

    اسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے وہ ہم سے دور ہے ایسا نہیں ہے یقیناً سوچتا ہوگا وہ مجھ کو اسے میں نے ابھی سوچا نہیں ہے جدھر جاتا ہوں دنیا ٹوکتی ہے ادھر کا راستہ تیرا نہیں ہے سفر آزاد ہونے کے لیے ہے مجھے منزل کا کچھ دھوکا نہیں ہے میں اپنی یاترا پر جا رہا ہوں مجھے اب لوٹ کر آنا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    ایک مرکز پہ سمٹتا جاؤں

    ایک مرکز پہ سمٹتا جاؤں یہ میں گھٹتا ہوں کہ بڑھتا جاؤں اک نفس بھی میں نہ جاؤں بیکار کسی تخلیق میں برتا جاؤں میں بلندی کی طرف مائل ہوں زینہ در زینہ اترتا جاؤں ہو رہا ہوں ترے دکھ میں تحلیل اپنے ہر درد سے کٹتا جاؤں ہو رہا ہوں میں کہیں اور طلوع افق جسم سے ڈھلتا جاؤں

    مزید پڑھیے