وہی اداس سی آنکھیں اداس چہرہ ہے
وہی اداس سی آنکھیں اداس چہرہ ہے یہ لگ رہا ہے کہ پہلے بھی تجھ کو دیکھا ہے میں چاہتا ہوں کہ تیری طرف نہ دیکھوں میں مری نظر کو مگر تو نے باندھ رکھا ہے چھپا کے رکھتا ہوں میں خود کو ہر طرح لیکن یہ آئنہ مجھے حیرت میں ڈال دیتا ہے تمہاری بات پہ کس کو یقین آئے گا کسی سے تم نہ یہ کہنا خدا ...