Mahaveer Parshad Anjum

مہاویر پرشاد انجم

مہاویر پرشاد انجم کی غزل

    قیام عمر رواں کا مسافرانہ ہے

    قیام عمر رواں کا مسافرانہ ہے جہاں میں رہتے ہیں جب تک کہ آب و دانہ ہے عبث غرور ہے توفیق خیر پر زاہد یہ اس کی رحمت و بخشش کا اک بہانہ ہے مجھے ریاضت و طاعت پر اعتماد نہیں سر نیاز مرا تیرا آستانہ ہے فنا ہی کا ہے بقا نام دوسرا انجمؔ نفس کی آمد و شد موت کا ترانہ ہے

    مزید پڑھیے