قیام عمر رواں کا مسافرانہ ہے
قیام عمر رواں کا مسافرانہ ہے جہاں میں رہتے ہیں جب تک کہ آب و دانہ ہے عبث غرور ہے توفیق خیر پر زاہد یہ اس کی رحمت و بخشش کا اک بہانہ ہے مجھے ریاضت و طاعت پر اعتماد نہیں سر نیاز مرا تیرا آستانہ ہے فنا ہی کا ہے بقا نام دوسرا انجمؔ نفس کی آمد و شد موت کا ترانہ ہے