اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیں
اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیں شادؔ اب اشعار میرے در خور محفل نہیں تو مرے اشک ندامت کی حقیقت کچھ نہ پوچھ اس کا ہر قطرہ وہ دریا ہے جہاں ساحل نہیں گھر خدا کا تھا مگر بت اس میں آ کر بس گئے اب مرقع ہے حسینوں کا ہمارا دل نہیں نکتہ چیں ہو میری رندانہ روش پر کیوں کوئی میں کوئی ...