Maharaj Sir Kishan Parashad Shad

مہراج سرکشن پرشاد شاد

مہراج سرکشن پرشاد شاد کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیں

    اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیں شادؔ اب اشعار میرے در خور محفل نہیں تو مرے اشک ندامت کی حقیقت کچھ نہ پوچھ اس کا ہر قطرہ وہ دریا ہے جہاں ساحل نہیں گھر خدا کا تھا مگر بت اس میں آ کر بس گئے اب مرقع ہے حسینوں کا ہمارا دل نہیں نکتہ چیں ہو میری رندانہ روش پر کیوں کوئی میں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوں

    بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوں چور ہوں مستی میں ایسا بے خود و مدہوش ہوں گرد پھرنے دے مجھے ساقی یہ میرا فرض ہے مثل ساغر دور میں ہوں بادۂ سرجوش ہوں طرز خاموشی مری بتلاتی ہے اس راز کو ہوں نوا سنج حقیقت لاکھ میں خاموش ہوں دردمند عشق ہو کر ضبط کا خوگر ہوں میں صورت سیماب ہو کر ...

    مزید پڑھیے

    فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانا

    فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانا بقا ہے نام کس کا اپنی ہستی سے گزر جانا جو روکا راہ میں حر نے تو شہہ عباس سے بولے مرے بھائی نہ غصے میں کہیں حد سے گزر جانا کہا اہل حرم نے روکے یوں اکبر کے لاشے پر جواں ہونے کا شاید تم نے رکھا نام مر جانا بقا میں تھا فنا کا مرتبہ حاصل شہیدوں ...

    مزید پڑھیے

    صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتاب

    صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتاب منہ پھرایا ہو خجل اس عشوہ گر سے آفتاب آسماں پر گر گرے برق نگاہ تند بار ابر میں رہ جائے چھپ کر اس کے ڈر سے آفتاب گر نقاب اپنی الٹ دے وہ رخ تابندہ سے گر پڑے بیتاب ہو کر چرخ پر سے آفتاب دل میں جب سے دیکھتا ہے وہ تری تصویر کو نور برساتا ہے اپنی چشم ...

    مزید پڑھیے