Maftun Kotvi

مفتوں کوٹوی

  • 1918 - 1980

مفتوں کوٹوی کی نظم

    غالب اور آم

    نہ تھے شاعر ہی کچھ بڑے غالب دل لگی میں بھی خوب تھے غالب خوب ہنستے ہنساتے رہتے تھے بڑی پر لطف بات کہتے تھے عام ان کو پسند تھے بے حد یعنی رسیا تھے آم کے بے حد خود بھی بازار سے منگاتے تھے دوست بھی آم ان کو بھجواتے پھر بھی آموں سے جی نہ بھرتا تھا آم کا شوق ان کو اتنا تھا ان کے قصے تمہیں ...

    مزید پڑھیے

    پندرہ اگست

    خوشیوں کے گیت گاؤ کہ پندرہ اگست ہے سب مل کے مسکراؤ کہ پندرہ اگست ہے ہر سمت قہقہے ہیں چراغاں ہے ہر طرف تم خود بھی جگمگاؤ کہ پندرہ اگست ہے ہر گوشۂ وطن کو نکھارو سنوار دو مہکاؤ لہلہاؤ کہ پندرہ اگست ہے آزادیٔ وطن پہ ہوئے ہیں کئی نثار خاطر میں ان کو لاؤ کہ پندرہ اگست ہے رکھو نہ صرف ...

    مزید پڑھیے