Madhukar Jha Khuddar

مدھوکر جھا خوددار

مدھوکر جھا خوددار کی غزل

    بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہے

    بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہے ہم تو یارو بارہا اشک رواں ہوتے رہے دل پہ چاہے جتنے خنجر ہو لگے اے جان جاں اس گلی میں ہم سراسر رائیگاں ہوتے رہے جام ایسا ڈال ساقی زہر سا اب پیس کر آج اس کو دیکھ سب جلوے عیاں ہوتے رہے جان مقتل پر لٹا دی بے سبب خوددارؔ نے جرم اس کے لن ترانی سے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیں

    کبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیں اسی دور محبت میں یہ دن یوں بیت جاتے ہیں کہا تھا جو کبھی تم نے چلو دیکھیں نظارے ہم اسی قاتل ادا سے اب ہمیں کو کیوں ستاتے ہیں زمانہ پوچھے گا تمہارے خستہ حال کا بیورا ہماری بات تو چھوڑو ہمیں یوں ہی بلاتے ہیں پتہ پوچھے ہمارا جو کہو اب کیا ...

    مزید پڑھیے

    کبھی کچھ کہیں یہ اجازت ہی دیجے

    کبھی کچھ کہیں یہ اجازت ہی دیجے نہ دیجے محبت عداوت ہی دیجے مری آنکھ کا وو چھلکنا دکھا کیا کسی روز ہمدم یہ راحت ہی دیجے زمانہ دکھاتا ہے ایسی بلائیں کبھی آپ دل کو عقیدت ہی دیجے بتانا ہے مشکل چھپانا ہے مشکل کریں کیا او رہبر نصیحت ہی دیجے تغافل ملا ہے اسی راہ پر یوں توجہ نہ دیجے ...

    مزید پڑھیے

    بھولنا چاہتا کہاں ہوں میں

    بھولنا چاہتا کہاں ہوں میں درد ہے اور بس رواں ہوں میں آج کچھ یاد آ رہی ہو یوں تم زمیں اور آسماں ہوں میں کیا ہوا جو حساب مانگا ہے کیا غموں کی کوئی دکاں ہوں میں روشنی کچھ چراغ کی لاؤ جس جگہ دفن ہوں نہاں ہوں میں دن دکھائے زمانے نے ایسے اب نہیں میر کارواں ہوں میں سادگی ہے ادا میں ...

    مزید پڑھیے

    نارسائی مقام ہوتی ہے

    نارسائی مقام ہوتی ہے نیم شب جاں تمام ہوتی ہے شمس کا ہم کہا نہیں سنتے چھاؤں میں رند شام ہوتی ہے ایسا اس نے کیا مجھے کامل بزم گل زار عام ہوتی ہے جب گلی میں تری خلافت ہے راہ ارض قیام ہوتی ہے دار خوددارؔ چل پڑا خود ہی اب قضا اس کے نام ہوتی ہے

    مزید پڑھیے