بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہے
بے زبانوں کی کہانی کی زباں ہوتے رہے ہم تو یارو بارہا اشک رواں ہوتے رہے دل پہ چاہے جتنے خنجر ہو لگے اے جان جاں اس گلی میں ہم سراسر رائیگاں ہوتے رہے جام ایسا ڈال ساقی زہر سا اب پیس کر آج اس کو دیکھ سب جلوے عیاں ہوتے رہے جان مقتل پر لٹا دی بے سبب خوددارؔ نے جرم اس کے لن ترانی سے ...