مدھو گپتا کی غزل

    باہر رہ یا گھر میں رہ

    باہر رہ یا گھر میں رہ میرے دل بنجر میں رہ صحرا جنگل میں مت جا نیند مرے بستر میں رہ منزل منزل دھوکا ہے میرے پاؤں سفر میں رہ باہر جتنا گھوم کے آ کچھ اپنے اندر میں رہ حد سے باہر پاؤں نہ دے اپنی ہی چادر میں رہ اپنا جینا مرنا کیا قاتل میرے خبر میں رہ جیسے دن جو موسم ہو تو ہر وقت نظر ...

    مزید پڑھیے

    اپنی صورت پہ بھی نظر رکھئے

    اپنی صورت پہ بھی نظر رکھئے آئنہ ہاتھ میں اگر رکھئے آپ پر جاں نثار کر دیں سب بات بس ایسی پر اثر رکھئے اک نا اک دن یہ کام آئے گا ہاتھ میں اپنے کچھ ہنر رکھئے پیار کوئی ہنسی یا کھیل نہیں آپ پتھر سا پھر جگر رکھئے چھاؤں ان کی بڑی ہی شیتل ہے گھر میں بوڑھا بھی اک شجر رکھئے

    مزید پڑھیے