Maatam Fazl Mohammad

ماتم فضل محمد

ماتم فضل محمد کی غزل

    نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوں

    نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوں گنہ گار و خطا کار و رضائے حق پہ راضی ہوں جہاں سے ہوں یہاں آیا وہاں جاؤں گا آخر کو مرا یہ حال ہے یارو نہ مستقبل نہ ماضی ہوں میں ہوں نادان دور افتادہ دانائی کے دیواں سے نہ ثانی ہوں سحابی کا نہ ہم بزم بیاضی ہوں پریشاں دل ہوں میں تنہائی ...

    مزید پڑھیے

    تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچ

    تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچ عشق کے ہوں میں دل افگاروں کے بیچ عشق ہے سیر خدا اے دوستاں اس لئے اشرف ہے اسراروں کے بیچ منزل دور و دراز عشق میں غم کو پایا ہم نے غم خواروں کے بیچ دوستاں ہے لا دوا دور از شفا عشق کا آزار آزاروں کے بیچ اب تو ہے کنج قفس گھر پر کبھی بلبلو تھے ہم بھی ...

    مزید پڑھیے

    شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگ

    شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگ پھر جاں سے بھڑک جسم کے میداں میں لگی آگ یہ آتش غم ہے کہ دم سرد سے اپنے سرچشمۂ خورشید درخشاں میں لگی آگ اس حور کے کوچے میں بھرے ہم جو دم گرم مردم نے کہا روضۂ رضواں میں لگی آگ خنداں جو ہوا یار ہمیں دیکھ کے گریاں لوگوں نے کہا برق سے باراں میں ...

    مزید پڑھیے

    الا یا شاہ خوباں کیجیے شاد

    الا یا شاہ خوباں کیجیے شاد ہوئے جاتے ہیں عاشق غم سے برباد ہمیں تم یاد ہو ہر لحظہ لیکن ہماری بھی کبھی تو کیجیے یاد گرفتار بلا بالائے تو یار غم دوراں سے ہیں جوں سرو آزاد اگر لیلیٰ ہے تو مجنوں ہیں ہم وگر شیریں ہے تو ہم ہیں فرہاد وہی ایراد کر سکتا ہے آخر کیا ہے جس نے اول ہم کو ...

    مزید پڑھیے

    دودمان درد کی شادی ہیں ہم

    دودمان درد کی شادی ہیں ہم خاندان غم کی آبادی ہیں ہم اپنی شومی سے ہوئی شادی غمی شاید آبادی کی بربادی ہیں ہم اپنے آب چشم سے سرسبز ہیں زیب دشت و زینت وادی ہیں ہم درمیان زندگی و مرگ ہیں قابل صید و نہ صیادی ہیں ہم زخم ہائے ہجر میں کیا کیا سہے کشتگان تیغ فولادی ہیں ہم بندۂ پیریم ...

    مزید پڑھیے

    اے دل زار لکھو جانب جاناں کاغذ

    اے دل زار لکھو جانب جاناں کاغذ حال کا لکھتے ہیں فقرا سوئے سلطاں کاغذ مرجع گبر و مسلماں ہے وہ بت نام خدا بھیجتے ہیں اسے ہندو و مسلماں کاغذ ان کا مضمون بھی البتہ ہویدا ہوگا اب جو آنے لگے اس شوخ کو پنہاں کاغذ حیف ہے صبح وطن سے نہ ہوا وارد وقت ہیچ گاہے بہ سر شام غریباں کاغذ کسی کا ...

    مزید پڑھیے

    نے امیروں میں نے وزیروں میں

    نے امیروں میں نے وزیروں میں عشق کے ہم تو ہیں فقیروں میں کوئی آزاد ہو تو ہو یارو ہم تو ہیں عشق کے اسیروں میں بندۂ عشق حق ہے اپنے یہاں تاج داروں میں تخت گیروں میں فرقت یار کی بھری ہے بو نالہ ہائے نے و نفیروں میں زن دنیا مرید کس کی نہیں ہم بھی اس قحبہ کے تھے پیروں میں اب تو خاموش ...

    مزید پڑھیے

    عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کا

    عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کا رہتا ہے اس کو نشہ شراب فرنگ کا کہتے ہیں لوگ دیکھ تیرے رخ پہ خال کو کیا حکم روم میں ہے سپہدار زنگ کا اے رشک حور وسعت جنت میں بھی مجھے تجھ بن ہے بے گمان یقیں گور تنگ کا جب سے پتنگ ہوں میں ترے شمع رو کا یار معلوم تھا نہ تجھ کو اڑانا پتنگ کا خوف خدا نہ ...

    مزید پڑھیے

    بس تمنا ہے عشق‌ مولیٰ میں

    بس تمنا ہے عشق‌ مولیٰ میں کہ مروں میں یہی تمنا میں عشق خوباں نہیں ہے ایسی شے باندھ کر رکھئے جس کو پڑیا میں رخ افشاں میں تیرے عالم نور نم قمر میں ہے نم ثریا میں ید بیضا کا ہے خیال آتا دیکھ مہندی ترے کف پا میں تیرے بیمار ہجر اے محبوب نہ تو موتی میں ہیں نہ احیا میں وحدہ لا شریک ...

    مزید پڑھیے