Maatam Fazl Mohammad

ماتم فضل محمد

ماتم فضل محمد کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوں

    نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوں گنہ گار و خطا کار و رضائے حق پہ راضی ہوں جہاں سے ہوں یہاں آیا وہاں جاؤں گا آخر کو مرا یہ حال ہے یارو نہ مستقبل نہ ماضی ہوں میں ہوں نادان دور افتادہ دانائی کے دیواں سے نہ ثانی ہوں سحابی کا نہ ہم بزم بیاضی ہوں پریشاں دل ہوں میں تنہائی ...

    مزید پڑھیے

    تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچ

    تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچ عشق کے ہوں میں دل افگاروں کے بیچ عشق ہے سیر خدا اے دوستاں اس لئے اشرف ہے اسراروں کے بیچ منزل دور و دراز عشق میں غم کو پایا ہم نے غم خواروں کے بیچ دوستاں ہے لا دوا دور از شفا عشق کا آزار آزاروں کے بیچ اب تو ہے کنج قفس گھر پر کبھی بلبلو تھے ہم بھی ...

    مزید پڑھیے

    شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگ

    شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگ پھر جاں سے بھڑک جسم کے میداں میں لگی آگ یہ آتش غم ہے کہ دم سرد سے اپنے سرچشمۂ خورشید درخشاں میں لگی آگ اس حور کے کوچے میں بھرے ہم جو دم گرم مردم نے کہا روضۂ رضواں میں لگی آگ خنداں جو ہوا یار ہمیں دیکھ کے گریاں لوگوں نے کہا برق سے باراں میں ...

    مزید پڑھیے

    الا یا شاہ خوباں کیجیے شاد

    الا یا شاہ خوباں کیجیے شاد ہوئے جاتے ہیں عاشق غم سے برباد ہمیں تم یاد ہو ہر لحظہ لیکن ہماری بھی کبھی تو کیجیے یاد گرفتار بلا بالائے تو یار غم دوراں سے ہیں جوں سرو آزاد اگر لیلیٰ ہے تو مجنوں ہیں ہم وگر شیریں ہے تو ہم ہیں فرہاد وہی ایراد کر سکتا ہے آخر کیا ہے جس نے اول ہم کو ...

    مزید پڑھیے

    دودمان درد کی شادی ہیں ہم

    دودمان درد کی شادی ہیں ہم خاندان غم کی آبادی ہیں ہم اپنی شومی سے ہوئی شادی غمی شاید آبادی کی بربادی ہیں ہم اپنے آب چشم سے سرسبز ہیں زیب دشت و زینت وادی ہیں ہم درمیان زندگی و مرگ ہیں قابل صید و نہ صیادی ہیں ہم زخم ہائے ہجر میں کیا کیا سہے کشتگان تیغ فولادی ہیں ہم بندۂ پیریم ...

    مزید پڑھیے

تمام