M R Qasmi

ایم آر قاسمی

ایم آر قاسمی کی غزل

    بجھا چکی ہے ہوا جس کو وہ دیا بھی میں

    بجھا چکی ہے ہوا جس کو وہ دیا بھی میں مگر یہ دیکھ بہت دیر تک جلا بھی میں طویل دھوپ کی شدت ہواؤں کی یورش سہی بھی میں نے سر دشت غم کھلا بھی میں ملے قیام کے احکام بھی مجھی کو یہاں مسافتوں کا پرستار ایک تھا بھی میں مرے نصیب میں پت جھڑ کے راستوں کا سفر سدا بہار دیاروں سے آشنا بھی ...

    مزید پڑھیے