M. A. Qadeer

ایم اے قدیر

ایم اے قدیر کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    شام غم افسردہ و حیراں تھے ہم

    شام غم افسردہ و حیراں تھے ہم لوگ سمجھے بے سر و ساماں تھے ہم تیز تھی اتنی زمانے کی ہوا پیرہن در پیرہن عریاں تھے ہم ہم سے بے معنی گریز و اختلاف ہم نشیں دو روز کے مہماں تھے ہم آج اپنی شہریت مشکوک ہے ایک دن اس ملک کے سلطاں تھے ہم زندگی کیا حشر کا میدان تھی اپنی اپنی فکر میں غلطاں ...

    مزید پڑھیے

    گفتگو ہم روبرو ان کے نہ کر پائے بہت

    گفتگو ہم روبرو ان کے نہ کر پائے بہت یوں تو آتے تھے سخن کے ہم کو پیرائے بہت زندگی کی دھوپ میں جب دور تک جانا پڑا یاد آئے تیری زلفوں کے گھنے سائے بہت ہو سکا پھر بھی نہ اس کے حسن رنگیں کا بیاں شہر فکر و فن سے تشبیہات ہم لائے بہت میں نے اک حق بات کہہ دی تھی خلاف مصلحت تب سے سنتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    ہم یوں ہی کسی سے خلش جاں نہیں کہتے

    ہم یوں ہی کسی سے خلش جاں نہیں کہتے روداد الم تا حد امکاں نہیں کہتے جو اپنے فرائض سے نپٹنے میں الجھ جائے ہم لوگ اسے زلف پریشاں نہیں کہتے کرتے ہی نہیں بات کبھی مصلحت آمیز مکروہ رخوں کو مہ تاباں نہیں کہتے اب ایسے بڑے لوگ زمانے میں کہاں ہیں جو کر کے کسی پر کوئی احساں نہیں کہتے جو ...

    مزید پڑھیے