Laxmi Narayan Farigh

لکشمی نارائن فارغ

لکشمی نارائن فارغ کی غزل

    مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں

    مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں یہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیں ضیائے حسن کو درگاہ دل ترستی ہے چراغ دیر و حرم میں جلائے جاتے ہیں نہیں ستاتے کسی کو بھی جو زمانے میں وہی زمانے میں اکثر ستائے جاتے ہیں ضیائے حسن سے ہوتا ہے جن کا دل معمور چراغ گور پر ان کی جلائے جاتے ...

    مزید پڑھیے

    جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے

    جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے کہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نے سکھائے حسن کافر کو سلیقے خود نمائی کے سنوارا پے بہ پے اپنا مذاق عاشقی میں نے ہوئے روشن نہ پھر بھی بام و در فکر و تصور کے ہزاروں بار کی بزم جہاں میں روشنی میں نے دل ناعاقبت اندیش کی کوتاہ‌‌ بینی ...

    مزید پڑھیے

    خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

    خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے ترا ملنا بقید زندگانی خیال خام ہو کر رہ گیا ہے فریب اعتبار‌ سعیٔ پیہم مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے ہر اک عنواں بیاض آرزو کا ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے دل ناکام کا ہر داغ حسرت سواد شام ہو کر رہ گیا ہے وفا کا نام فارغؔ اس جہاں ...

    مزید پڑھیے

    اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا

    اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا دل سے عرفان محبت کا اثر جاتا رہا شمع سوز غم کا قصہ رات بھر کہتی رہی دے کے پروانہ پیام مختصر جاتا رہا عہد رفتہ کو نہ دیکھا لوٹ کر آتے ہوئے اعتبار گردش شام و سحر جاتا رہا ہو سکے گا پھر نہ صیقل جوہر کردار زیست گر جہاں سے اعتبار خیر و شر جاتا ...

    مزید پڑھیے

    رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا

    رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا یگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گا سرور بادۂ رنج و غم حیات کبھی نہ کام آیا کسی کے نہ کام آئے گا ہماری زندگیٔ مختصر کا سرمایہ ہمارے بعد زمانے کے کام آئے گا بدل چکی ہے فضا اب نظام عالم کی نہ کام دانہ کسی کے نہ دام آئے گا یقیں ہے تشنہ لبوں کو کہ ان کی محفل ...

    مزید پڑھیے

    درد جب دل میں سما جاتا ہے

    درد جب دل میں سما جاتا ہے لذت‌ زیست بڑھا جاتا ہے خون معصوم سے دیواروں پر غم کا افسانہ لکھا جاتا ہے اب تو ہر جذبۂ بیباک کا بھی حوصلہ پست ہوا جاتا ہے جانے کیوں مجھ کو حیا آتی ہے وار جب ان کا خطا جاتا ہے غم ایام کا ہر اک منظر شدت درد بڑھا جاتا ہے رفتہ رفتہ دل دیوانہ بھی محرم راز ...

    مزید پڑھیے

    بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہے

    بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہے رگ گل میں نہاں برق تپاں معلوم ہوتی ہے تمنا ہی سے قائم ہے وقار‌ نوجوانی بھی تمنا گرچہ جنس رائیگاں معلوم ہوتی ہے کنارہ ہے کوئی اس کا نہ اس کا کوئی ساحل ہے محبت ایک بحر بیکراں معلوم ہوتی ہے گذشتہ وارداتوں پر میں جب بھی غور کرتا ہوں مجھے ہر ...

    مزید پڑھیے

    جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہے

    جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہے ہر اک پردے سے وہ جلوہ نما ہے بشر ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہے سزا اپنے کئے کی پا رہا ہے تمنا اور پھر ان کی تمنا یہ عرفان خودی کی انتہا ہے بتوں کو دیکھ کر آتا ہے تو یاد بتوں کے حسن میں جلوہ ترا ہے کہیں تو ہے کہیں تصویر تیری نہ کعبہ ہے نہ کوئی بت کدہ ...

    مزید پڑھیے

    نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے

    نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے شکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہے بھٹکنے لگتا ہے راہ وفا سے جب عالم حدیث عشق ہماری سنائی جاتی ہے متاع ہوش و خرد بے بہا سہی لیکن در حبیب پہ یہ بھی لٹائی جاتی ہے نظر سے ہوتی ہے لطف و کرم کی بارش بھی نظر سے برق تپاں بھی گرائی جاتی ہے وفور شوق کی دیکھو ...

    مزید پڑھیے

    خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی

    خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہمیں حاصل نہ کبھی وجہ مباہات ہوئی فکر فردا ہے کبھی رنج و غم دوش کبھی کس قدر روح بشر مورد آفات ہوئی خستہ حالی پہ مری ان کو بھی رونا آیا بعد مدت مرے ویرانے میں برسات ہوئی وجہ آشوب تمنا ہوا فکر جنت وجہ آسودگیٔ روح مناجات ہوئی تشنگی مٹ نہ سکی ...

    مزید پڑھیے