مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں
مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں یہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیں ضیائے حسن کو درگاہ دل ترستی ہے چراغ دیر و حرم میں جلائے جاتے ہیں نہیں ستاتے کسی کو بھی جو زمانے میں وہی زمانے میں اکثر ستائے جاتے ہیں ضیائے حسن سے ہوتا ہے جن کا دل معمور چراغ گور پر ان کی جلائے جاتے ...