Laxmi Narayan Farigh

لکشمی نارائن فارغ

لکشمی نارائن فارغ کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں

    مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں یہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیں ضیائے حسن کو درگاہ دل ترستی ہے چراغ دیر و حرم میں جلائے جاتے ہیں نہیں ستاتے کسی کو بھی جو زمانے میں وہی زمانے میں اکثر ستائے جاتے ہیں ضیائے حسن سے ہوتا ہے جن کا دل معمور چراغ گور پر ان کی جلائے جاتے ...

    مزید پڑھیے

    جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے

    جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے کہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نے سکھائے حسن کافر کو سلیقے خود نمائی کے سنوارا پے بہ پے اپنا مذاق عاشقی میں نے ہوئے روشن نہ پھر بھی بام و در فکر و تصور کے ہزاروں بار کی بزم جہاں میں روشنی میں نے دل ناعاقبت اندیش کی کوتاہ‌‌ بینی ...

    مزید پڑھیے

    خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

    خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے ترا ملنا بقید زندگانی خیال خام ہو کر رہ گیا ہے فریب اعتبار‌ سعیٔ پیہم مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے ہر اک عنواں بیاض آرزو کا ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے دل ناکام کا ہر داغ حسرت سواد شام ہو کر رہ گیا ہے وفا کا نام فارغؔ اس جہاں ...

    مزید پڑھیے

    اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا

    اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا دل سے عرفان محبت کا اثر جاتا رہا شمع سوز غم کا قصہ رات بھر کہتی رہی دے کے پروانہ پیام مختصر جاتا رہا عہد رفتہ کو نہ دیکھا لوٹ کر آتے ہوئے اعتبار گردش شام و سحر جاتا رہا ہو سکے گا پھر نہ صیقل جوہر کردار زیست گر جہاں سے اعتبار خیر و شر جاتا ...

    مزید پڑھیے

    رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا

    رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا یگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گا سرور بادۂ رنج و غم حیات کبھی نہ کام آیا کسی کے نہ کام آئے گا ہماری زندگیٔ مختصر کا سرمایہ ہمارے بعد زمانے کے کام آئے گا بدل چکی ہے فضا اب نظام عالم کی نہ کام دانہ کسی کے نہ دام آئے گا یقیں ہے تشنہ لبوں کو کہ ان کی محفل ...

    مزید پڑھیے

تمام