Laxman Sharma Vahid

لکشمن شرما وحید

لکشمن شرما وحید کی غزل

    اپاہج باپ کو بیٹا اکیلا چھوڑ جاتا ہے

    اپاہج باپ کو بیٹا اکیلا چھوڑ جاتا ہے مصیبت میں تو اکثر ساتھ سایہ چھوڑ جاتا ہے گھنیرا ہو شجر کتنا نہیں شاداب گر شاخیں تو ان شاخوں پہ پھر آنا پرندہ چھوڑ جاتا ہے اٹھا پاتا نہیں خالی شکم جب بوجھ بستے کا مٹانے بھوک بچپن کی وہ بستہ چھوڑ جاتا ہے قلم ہونا تھا جس کے ہاتھ میں تھامے وہ ...

    مزید پڑھیے