Lateef Sahil

لطیف ساحل

لطیف ساحل کی غزل

    کوئی ہوتا ہے، ہر اک آشنا اچھا نہیں ہوتا

    کوئی ہوتا ہے، ہر اک آشنا اچھا نہیں ہوتا ضرورت سے زیادہ رابطہ اچھا نہیں ہوتا سنبھل کر کھیلنا چاہو تو دل سے کھیل سکتے ہو بچاؤ ہاتھ ٹوٹا آئنا اچھا نہیں ہوتا جو ویرانوں میں ہوتے ہیں وہ گھر محفوظ ہوتے ہیں کسی کی دسترس میں گھونسلہ اچھا نہیں ہوتا ڈبو دے گی گھریلو کشمکش معصوم بچوں ...

    مزید پڑھیے

    جذبۂ عشق پھر مچلتا ہے

    جذبۂ عشق پھر مچلتا ہے ڈھلتے ڈھلتے یہ چاند ڈھلتا ہے پوچھتی پھر رہی ہے اوس ابھی پھول کب پیرہن بدلتا ہے میں تو چلتا ہوں تیری یاد کے ساتھ راستہ میرے ساتھ چلتا ہے تیرے آنگن میں شب اترتی ہے تیری کھڑکی سے دن نکلتا ہے خوشبوئیں خوشبوؤں سے ملتی ہیں کس لیے پھول ہاتھ ملتا ہے لاکھ نازک ...

    مزید پڑھیے