Lalan Chaudhary

للن چودھری

  • 1923

للن چودھری کی غزل

    اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں

    اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں نہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیں ابھی یہ جفا کا ہے آغاز اے دل وفا کے ابھی امتحاں اور بھی ہیں نہیں اک فلک کی ہے مجھ پر عنایت مرے حال پر مہرباں اور بھی ہیں ہمیں سے ہے کیوں لاگ برق تپاں کو چمن میں کئی آشیاں اور بھی ہیں رہ عشق میں مٹ گئے ہم تو کیا غم رہ ...

    مزید پڑھیے

    صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئے

    صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئے اس شوخ کی آنکھوں کے پیمانے کو کیا کہئے یوں برق نے پھونکا ہے سب خاک ہوئے سپنے برباد نشیمن کے افسانے کو کیا کہئے دے کر غم دل اب وہ بیمار محبت کو سمجھاتے ہیں ان کے اس سمجھانے کو کیا کہئے یہ سوز محبت ہے جب شمع ہوئی روشن جل جاتا ہے چپکے سے پروانے ...

    مزید پڑھیے

    اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہم

    اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہم قابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہم کب مل کے انہیں دل کی تمنائیں بر آئیں کب ان سے جدا ہو کے پریشاں نہ رہے ہم یہ بات دگر ہے کہ نہ تھے روبرو ان کے کب دید کا دل میں لئے ارماں نہ رہے ہم قسمت تو ذرا دیکھو کب آئی ہیں بہاریں جب قابل گل گشت گلستاں نہ رہے ...

    مزید پڑھیے

    اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہوا

    اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہوا کیوں آہ و زاری ہے لب خنداں کو کیا ہوا دیوانے اپنا چاک گریباں تو سی چکے اب تک نہ آئی فصل بہاراں کو کیا ہوا دونوں جہاں ہیں منتظر روز حشر پھر اس شوخ چشم فتنۂ دوراں کو کیا ہوا پھولوں میں کوئی بو ہے نہ کلیوں میں تازگی اے عندلیب رنگ گلستاں کو کیا ...

    مزید پڑھیے

    خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہے

    خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہے انہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہے اسیران قفس رونے سے کیا صیاد چھوڑے گا کسی کو کب کسی کی بیکسی معلوم ہوتی ہے ہماری سادہ لوحی دیکھیے راہ محبت میں کسی کی دشمنی بھی دوستی معلوم ہوتی ہے اگر تم نے نہ پہچانا تو کیا اب رنج فرقت میں مجھے ...

    مزید پڑھیے

    اس بت سے دل لگا کے بہت سوچتے رہے

    اس بت سے دل لگا کے بہت سوچتے رہے صبر و سکوں لٹا کے بہت سوچتے رہے جب سامنا ہوا تو زباں رک گئی مری وہ بھی نظر جھکا کے بہت سوچتے رہے دیوانگئ شوق میں اپنے ہی ہاتھ سے گھر اپنا ہم جلا کے بہت سوچتے رہے امڈا جو ابر یاد نے ان کی رلا دیا خالی سبو اٹھا کے بہت سوچتے رہے کہتے کسے چمن میں لٹے ...

    مزید پڑھیے

    اس غم کی دھوپ میں مجھے پروائیاں نہ دو

    اس غم کی دھوپ میں مجھے پروائیاں نہ دو جلنے دو اپنی زلف کی پرچھائیاں نہ دو لرزاں ہیں دو جہاں قیامت بپا نہ ہو اپنے شعور حسن کو انگڑائیاں نہ دو آ جاؤ کب سے خلق ترستی ہے دید کو پردے میں اپنے آپ کو تنہائیاں نہ دو ہو جائے جس میں غرق مری کشتئ امید وہ بحر اضطراب کی گہرائیاں نہ ...

    مزید پڑھیے

    گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہے

    گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہے اس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہے کرتی ہے خنک دل کی تپش باد سحر بھی لیکن ترے دامن کی ہوا اور ہی کچھ ہے شاید وہ شباب آنے سے آگاہ ہوا ہے پلکیں ہیں جھکیں رنگ حیا اور ہی کچھ ہے کس شوخ نے زلفوں کو ہوا میں ہے اڑایا یہ توبہ شکن کالی گھٹا اور ہی کچھ ...

    مزید پڑھیے

    نصیب اپنا ذرا آزما کے دیکھیں گے

    نصیب اپنا ذرا آزما کے دیکھیں گے چراغ شوق ہوا میں جلا کے دیکھیں گے مچل مچل کے کہاں تک یہ برق گرتی ہے چمن میں پھر سے نشیمن بنا کے دیکھیں گے فلک کو ضد ہے کہ ہم کو رلا کے دیکھے گا ہمیں یہ ضد ہے اسے مسکرا کے دیکھیں گے جھکائے بیٹھے ہیں اب ان کے در پہ سر اپنا کبھی تو وہ ہمیں آنکھیں اٹھا ...

    مزید پڑھیے