Lalan Chaudhary

للن چودھری

  • 1923

للن چودھری کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں

    اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں نہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیں ابھی یہ جفا کا ہے آغاز اے دل وفا کے ابھی امتحاں اور بھی ہیں نہیں اک فلک کی ہے مجھ پر عنایت مرے حال پر مہرباں اور بھی ہیں ہمیں سے ہے کیوں لاگ برق تپاں کو چمن میں کئی آشیاں اور بھی ہیں رہ عشق میں مٹ گئے ہم تو کیا غم رہ ...

    مزید پڑھیے

    صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئے

    صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئے اس شوخ کی آنکھوں کے پیمانے کو کیا کہئے یوں برق نے پھونکا ہے سب خاک ہوئے سپنے برباد نشیمن کے افسانے کو کیا کہئے دے کر غم دل اب وہ بیمار محبت کو سمجھاتے ہیں ان کے اس سمجھانے کو کیا کہئے یہ سوز محبت ہے جب شمع ہوئی روشن جل جاتا ہے چپکے سے پروانے ...

    مزید پڑھیے

    اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہم

    اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہم قابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہم کب مل کے انہیں دل کی تمنائیں بر آئیں کب ان سے جدا ہو کے پریشاں نہ رہے ہم یہ بات دگر ہے کہ نہ تھے روبرو ان کے کب دید کا دل میں لئے ارماں نہ رہے ہم قسمت تو ذرا دیکھو کب آئی ہیں بہاریں جب قابل گل گشت گلستاں نہ رہے ...

    مزید پڑھیے

    اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہوا

    اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہوا کیوں آہ و زاری ہے لب خنداں کو کیا ہوا دیوانے اپنا چاک گریباں تو سی چکے اب تک نہ آئی فصل بہاراں کو کیا ہوا دونوں جہاں ہیں منتظر روز حشر پھر اس شوخ چشم فتنۂ دوراں کو کیا ہوا پھولوں میں کوئی بو ہے نہ کلیوں میں تازگی اے عندلیب رنگ گلستاں کو کیا ...

    مزید پڑھیے

    خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہے

    خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہے انہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہے اسیران قفس رونے سے کیا صیاد چھوڑے گا کسی کو کب کسی کی بیکسی معلوم ہوتی ہے ہماری سادہ لوحی دیکھیے راہ محبت میں کسی کی دشمنی بھی دوستی معلوم ہوتی ہے اگر تم نے نہ پہچانا تو کیا اب رنج فرقت میں مجھے ...

    مزید پڑھیے

تمام