اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں
اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں نہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیں ابھی یہ جفا کا ہے آغاز اے دل وفا کے ابھی امتحاں اور بھی ہیں نہیں اک فلک کی ہے مجھ پر عنایت مرے حال پر مہرباں اور بھی ہیں ہمیں سے ہے کیوں لاگ برق تپاں کو چمن میں کئی آشیاں اور بھی ہیں رہ عشق میں مٹ گئے ہم تو کیا غم رہ ...