اپنی خواہش میں جو بس گئے ہیں وہ دیوار و در چھوڑ دیں
اپنی خواہش میں جو بس گئے ہیں وہ دیوار و در چھوڑ دیں دھوپ آنکھوں میں چبھنے لگی ہے تو کیا ہم سفر چھوڑ دیں دست بردار ہو جائیں فریاد سے اور بغاوت کریں کیا سوالی ترے قصر انصاف! زنجیر در چھوڑ دیں جب لعاب دہن اپنا تریاق ہے دست و بازو بھی ہیں سانپ گلیوں میں لہرا رہے ہیں تو کیا ہم نگر ...