Krishna Kumar Naz

کرشن کمار ناز

کرشن کمار ناز کی غزل

    جو خود اداس ہو وہ کیا خوشی لٹائے گا

    جو خود اداس ہو وہ کیا خوشی لٹائے گا بجھے دیے سے دیا کس طرح جلائے گا کمان خوش ہے کہ تیر اس کا کامیاب رہا ملال بھی ہے کہ اب لوٹ کے نہ آئے گا وہ بند کمرے کے گملے کا پھول ہے یارو وہ موسموں کا بھلا حال کیا بتائے گا میں جانتا ہوں ترے بعد میری آنکھوں میں بہت دنوں ترا احساس جھلملائے ...

    مزید پڑھیے