Krishn Chander

کرشن چندر

منٹو کے ہم عصر ، ترقی پسند تحریک سے وا بستہ ممتاز افسانہ نگار۔شدید رومان اور سماجی حقیقتوں کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف۔

A contemporary of Manto, associated with the Progressive Writers Movement, known for his stories of romance and social realism.

کرشن چندر کی رباعی

    چاندی کا کمربند

    چورنگھی کے سپر میں رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہاں شکار مل جاتا ہے۔ کلکتہ کے کسی ہوٹل میں اتنا اچھا شکار نہیں ملتا جتنا سپر میں۔ اور جتنا اچھا شکار کرسمس کے دنوں میں ملتا ہے اتنا کسی دوسرے سیزن میں نہیں ملتا۔ میں اب تک سات بار کلکتے آچکا ہوں صرف دو بار خالی ہاتھ لوٹا ورنہ ...

    مزید پڑھیے

    میرا بچہ

    یہ میرا بچہ ہے۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے یہ اپنی ماں کے سپنوں میں تھا۔ میری تند و تیز جنسی خواہش میں سو رہا تھا۔ جیسے درخت بیج میں سویا رہتا ہے۔ مگر آج سے ڈیڑھ برس پہلے اس کا کہیں وجود نہ تھا۔ حیرت ہےاب اسے دیکھ کر، اسے گلے سے لگا کر، اسے ...

    مزید پڑھیے

    تائی ایسری

    میں گرانٹ میڈیکل کالج کلکتہ میں ڈاکٹری کا فائنل کورس کر رہا تھا اور اپنے بڑے بھائی کی شادی پر چند روز کے لئے لاہور آ گیا تھا۔ یہیں شاہی محلے کے قریب کوچہ ٹھاکر داس میں ہمارا جہاں آبائی گھر تھا، میری ملاقات پہلی بار تائی ایسری سے ہوئی۔ تائی ایسری ہماری سگی تائی تو نہ تھی، لیکن ...

    مزید پڑھیے

    بھگت رام

    ابھی ابھی میرے بچے نے میرے بائیں ہاتھ کی چھنگلیاں کو اپنے دانتوں تلے داب کر اس زور کا کاٹا کہ میں چلاّئے بغیر نہ رہ سکا اور میں نے غصّہ میں آکر اس کے دو تین طمانچےبھی جڑ دیئے بیچارا اسی وقت سے ایک معصوم پّلے کی طرح چلاّ رہا ہے۔ یہ بچے کمبخت دیکھنے میں کتنے نازک ہوتے ہیں لیکن ان کے ...

    مزید پڑھیے

    آدھے گھنٹے کا خدا

    دو آدمی اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ اتنی بلندی سے وہ دونوں نیچے سپاٹ کھیتوں میں چلتے ہوئے دو چھوٹے سے کھلونوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ دونوں کے کندھوں پر تیلیوں کی طرح باریک رائفلیں رکھی نظر آ رہی تھیں۔ یقیناً ان کا ارادہ اسے جان سے مار دینے کا تھا۔ مگر وہ لوگ ابھی اس سے بہت دور تھے۔ ...

    مزید پڑھیے

    مہا لکشمی کا پل

    مہا لکشمی کے اسٹیشن کے اس پار لکشمی جی کا ایک مندر ہے۔ اسے لوگ ریس کورس بھی کہتے ہیں۔ اس مندر میں پوجا کرنے والے ہارتے زیادہ ہیں، جیتتے بہت کم ہیں۔ مہا لکشمی سٹیشن کے اس پار ایک بہت بڑی بدرو ہے جو انسانی جسموں کی غلاظت کو اپنے متعفن پانیوں میں گھولتی ہوئی شہر سے باہر چلی جاتی ہے۔ ...

    مزید پڑھیے

    امرتسر آزادی کے بعد

    پندرہ اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا۔ پاکستان آزاد ہوا۔ پندرہ اگست 1947ء کو ہندوستان بھرمیں جشن آزادی منایا جا رہا تھا اور کراچی میں آزاد پاکستان کے فرحت ناک نعرے بلند ہو رہے تھے۔ پندرہ اگست 1947ء کو لاہور جل رہا تھا اور امرت سر میں ہندو مسلم ،سکھ عوام فرقہ وارانہ فساد کی ہولناک ...

    مزید پڑھیے

    دو فرلانگ لمبی سڑک

    کچہریوں سے لے کر لا کالج تک بس یہی کوئی دوفرلانگ لمبی سڑک ہوگی، ہر روز مجھے اسی سڑک پر سے گزرنا ہوتا ہے، کبھی پیدل، کبھی سائیکل پر۔ سڑک کے دورویہ شیشم کے سوکھے سوکھے اداس سے درخت کھڑے ہیں۔ان میں نہ حسن ہے نہ چھاؤں،سخت کھردرے تنے اور ٹہنیوں پر گدھوں کے جھنڈ، سڑک صاف سیدھی اور سخت ...

    مزید پڑھیے

    مینا بازار

    دو عاشقوں میں توازن برقرار رکھنا، جب کے دونوں آئی سی ایس کے افراد ہوں، بڑا مشکل کام ہے۔ مگر رمبھا بڑی خوش اسلوبی سے کام کو سر انجام دیتی تھی۔ اس کے نئے عاشقوں کی کھیپ اس ہل اسٹیشن میں پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ رمبھا بے حد خوبصورت تھی۔ اس کا پیارا پیارا چہرا کسی آرٹ میگزین کے سرورق ...

    مزید پڑھیے

    پشاور ایکسپریس

    جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ پشاور سے ہوتے مردان سے، کوہاٹ سے، چارسدہ سے، خیبر سے، لنڈی کوتل سے، بنوں، نوشہرہ، مانسہرہ سے آئے تھے اور پاکستان میں جان و مال کو محفوظ نہ پاکر ہندوستان کا رخ کر رہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3