لفظوں کے یہ نگینے تو نکلے کمال کے
لفظوں کے یہ نگینے تو نکلے کمال کے غزلوں نے خود پہن لیے زیور خیال کے ایسا نہ ہو گناہ کی دلدل میں جا پھنسوں اے میری آرزو مجھے لے چل سنبھال کے پچھلے جنم کی گاڑھی کمائی ہے زندگی سودا جو کرنا کرنا بہت دیکھ بھال کے موسم ہیں دو ہی عشق کے صورت کوئی بھی ہو ہیں اس کے پاس آئنے ہجر و وصال ...