Krishn Bihari Noor

کرشن بہاری نور

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

Popular poet, a fine exponet of the language and culture of Lucknow.

کرشن بہاری نور کے تمام مواد

29 غزل (Ghazal)

    لفظوں کے یہ نگینے تو نکلے کمال کے

    لفظوں کے یہ نگینے تو نکلے کمال کے غزلوں نے خود پہن لیے زیور خیال کے ایسا نہ ہو گناہ کی دلدل میں جا پھنسوں اے میری آرزو مجھے لے چل سنبھال کے پچھلے جنم کی گاڑھی کمائی ہے زندگی سودا جو کرنا کرنا بہت دیکھ بھال کے موسم ہیں دو ہی عشق کے صورت کوئی بھی ہو ہیں اس کے پاس آئنے ہجر و وصال ...

    مزید پڑھیے

    اس کی دھن میں ہر طرف بھاگا کیا دوڑا کیا

    اس کی دھن میں ہر طرف بھاگا کیا دوڑا کیا ایک بوند امرت کی خاطر میں سمندر پی گیا اک طرف قانون ہے اور اک طرف انسان ہے ختم ہوتا ہی نہیں جرم و سزا کا سلسلہ اول و آخر کے کچھ اوراق ملتے ہی نہیں ہے کتاب زندگی بے ابتدا بے انتہا پھول میں رنگت بھی تھی خوشبو بھی تھی اور حسن بھی اس نے آوازیں ...

    مزید پڑھیے

    لاکھ غم سینے سے لپٹے رہے ناگن کی طرح

    لاکھ غم سینے سے لپٹے رہے ناگن کی طرح پیار سچا تھا مہکتا رہا چندن کی طرح تجھ کو پہچان لیا ہے تجھے پا بھی لوں گا اک جنم اور ملے گر اسی جیون کی طرح اب کوئی کیسے پہنچ پائے گا تیرے غم تک مسکراہٹ کی ردا ڈال دی چلمن کی طرح کوئی تحریر نہیں ہے جسے پڑھ لے کوئی زندگی ہو گئی بے نام سی الجھن ...

    مزید پڑھیے

    اپنی پلکوں سے اس کے اشارے اٹھا

    اپنی پلکوں سے اس کے اشارے اٹھا اس کی انگلیوں سے اشارے اٹھا ایسا لگتا ہے دہرا رہا ہوں میں کچھ زندگی کے پرانے شمارے اٹھا روشنی کا وہ کیسا عجب شور تھا اس کنارے ہوا اس کنارے اٹھا آخری ہے سفر وہ سبک سر چلے اس کے دامن سے اپنے ستارے اٹھا آنکھ کی اس بدن پر لکیریں کھنچیں ہر غزل سے نئے ...

    مزید پڑھیے

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت ان دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت رات ہو دن ہو کہ غفلت ہو کہ بیداری ہو اس کو دیکھا تو نہیں ہے اسے سوچا ہے بہت تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی کبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت مرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ میں نے پتھر ...

    مزید پڑھیے

تمام