میں جس ارادے سے جا رہی ہوں اسی ارادے سے لڑ پڑوں گی
میں جس ارادے سے جا رہی ہوں اسی ارادے سے لڑ پڑوں گی مرے سپاہی کو کچھ ہوا تو میں شاہزادے سے لڑ پڑوں گی یہ کھیل شاہوں کے مرتبے کا ہدف بنیں گے ہمارے مہرے میں بے بسی میں شکست کھائے ہوئے پیادے سے لڑ پڑوں گی میں اپنی بستی کی کچی گلیوں سے عشق کرتی ہوں یاد رکھنا اگر جو اچھا برا کہے گا امیر ...