خواجہ ساجد کی غزل

    اس کا لہجہ اکھڑتا جاتا ہے

    اس کا لہجہ اکھڑتا جاتا ہے پھر بچھڑنے کا وقت آتا ہے اس کا انداز گفتگو اکثر میرے لہجے میں جگمگاتا ہے اس کی سانسیں جب آگ دیتی ہیں میرا چہرہ بھی تمتماتا ہے پیاس جب ایڑیاں رگڑتی ہے چشمۂ آب پھوٹ جاتا ہے جب بھی آتا ہے پھول کاجل کے میرے کاندھے پہ ٹانک جاتا ہے میں چکوروں کا ہم نوا ...

    مزید پڑھیے

    رات آدھی ہے بات پوری ہے

    رات آدھی ہے بات پوری ہے تیرا ملنا بہت ضروری ہے داؤں پر ہے وفا کناروں کی موج کا لوٹنا ضروری ہے تجھ سے خوشبو ہے میرے لفظوں میں تیرے بن یے غزل ادھوری ہے قربتیں ہم بھی چاہتے ہیں مگر درمیاں فاصلہ ضروری ہے پاسداری تو ہے رویوں میں پر دلوں میں ابھی بھی دوری ہے

    مزید پڑھیے

    زندگی کی راہ میں اک موڑ ایسا آئے گا

    زندگی کی راہ میں اک موڑ ایسا آئے گا جس کے آگے ہر کوئی خود کو اکیلا پائے گا کون کتنا ضبط کر سکتہ ہے کرب‌ ہجر کو ریل جب چلنے لگے گی فیصلہ ہو جائے گا آج بھی اس روٹھنے والے سے یے امید ہے میری جانب دیکھ کر اک بار تو مسکائے گا اس طرح دے گا سزا اپنائیت کے جرم کی میں اسے اپنا کہوں وہ غیر ...

    مزید پڑھیے

    ظلمتوں میں جیتے ہیں، روشنی کے مارے ہیں

    ظلمتوں میں جیتے ہیں، روشنی کے مارے ہیں ایک ہی قبیلے کے چاند اور ستارے ہیں رتجگوں کے ساتھی ہیں، اشک، آہٹیں، خوشبو بس یہیں کہیں تو ہے یا بھرم ہمارے ہیں آج تک تو رسماً بھی تو نے یہ نہیں پوچھا ہم نے تیری فرقت میں کیسے دن گزارے ہیں اس نے میرے پہلو میں جھانک کر نہیں دیکھا چوٹ کتنی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ سہمی شرمائی خوشبو

    کچھ سہمی شرمائی خوشبو رات گئے گھر آئی خوشبو آنکھ کے روشن دان سے اتری دل میں ایک پرائی خوشبو آزادی کا ہاتھ پکڑ کر بازاروں میں آئی خوشبو تیز بہت بازار تھا اب کے میرے ہاتھ نہ آئی خوشبو تھک کر باسی ہو جانے سے پہلے گھر لوٹ آئی خوشبو رات کے سناٹوں میں بولے خاموشی تنہائی خوشبو

    مزید پڑھیے

    امن کی پوتھی جزدانوں میں ہاتھوں میں ہتھیار

    امن کی پوتھی جزدانوں میں ہاتھوں میں ہتھیار گاندھی کے اس دیس میں سستا خون ہے مہنگا پیار پورے چاند سے ویاکل سجنی جاگے ساری رات اس برکھا مت جئی ہو ساجن سات سمندر پار سانس کی بولی دل کی زباں اور آنکھوں کی گفتار جو ان کو نہ بوجھ سکے وہ کیا سمجھے گا پیار قد کی ہمارے پیمائش کیا بدل ...

    مزید پڑھیے

    کوئی شیشہ نہ در سلامت ہے

    کوئی شیشہ نہ در سلامت ہے گھر مرا دشت کی امانت ہے سارے جذبوں کے باندھ ٹوٹ گئے اس نے بس یہ کہا اجازت ہے جان کر فاصلے سے ملنا بھی آشنائی کی اک علامت ہے اس سے ہر رسم و راہ توڑ تو دی دل کو لیکن بہت ندامت ہے روبرو اس کے ایک شب جو ہوئے ہم نے جانا کہ کیا عنایت ہے دو قدم ساتھ چل کے جان ...

    مزید پڑھیے

    تنہا چاند کو دیکھا ہوگا

    تنہا چاند کو دیکھا ہوگا کوئی یاد تو آیا ہوگا ضبط کا شیشہ چٹخا ہوگا یاد نے کنکر پھینکا ہوگا ساون کی بھیگی خوشبو نے سانسوں کو سلگایا ہوگا گاگر سے چمٹی ہے رادھاؔ شیامؔ جو اس کو چھوتا ہوگا ہم کیا خاک غزل لکھیں جب انگڑائی پر پہرہ ہوگا تیرے تیور دیکھ کے اکثر موسم رنگ بدلتا ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی بارش میری آنکھوں میں اتر جاتی ہے

    جب بھی بارش میری آنکھوں میں اتر جاتی ہے بادلوں میں تری تصویر ابھر جاتی ہے ڈوبنا جن ہمیں ہو مقصود وہ کب سوچتے ہیں موج کس سمت سے آتی ہے کدھر جاتی ہے میرے احساس کی بینائی ہے خوشبو اس کی آگ بن کر میری رگ رگ میں اتر جاتی ہے دن وہی دن ہے جو بیتے تری امید کے ساتھ شب وہی شب جو ترے ساتھ ...

    مزید پڑھیے

    رات بے خوابیوں کا سفر تیرے بن

    رات بے خوابیوں کا سفر تیرے بن دن ہے بے چینیوں کا نگر تیرے بن قربتیں فاصلوں میں بدلتی رہیں بد گمانی ہر اک موڑ پر تیرے بن چاندنی میں سحر، حسن، ٹھنڈک نہ نور عیب تھا اس کا ہر اک ہنر تیرے بن خواب خانہ بدوشوں سے پھرتے رہے نیند بھی ہو گئی در بہ در تیرے بن میرے بالوں میں چاندی پروتے ...

    مزید پڑھیے