خواجہ ساجد کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    اس کا لہجہ اکھڑتا جاتا ہے

    اس کا لہجہ اکھڑتا جاتا ہے پھر بچھڑنے کا وقت آتا ہے اس کا انداز گفتگو اکثر میرے لہجے میں جگمگاتا ہے اس کی سانسیں جب آگ دیتی ہیں میرا چہرہ بھی تمتماتا ہے پیاس جب ایڑیاں رگڑتی ہے چشمۂ آب پھوٹ جاتا ہے جب بھی آتا ہے پھول کاجل کے میرے کاندھے پہ ٹانک جاتا ہے میں چکوروں کا ہم نوا ...

    مزید پڑھیے

    رات آدھی ہے بات پوری ہے

    رات آدھی ہے بات پوری ہے تیرا ملنا بہت ضروری ہے داؤں پر ہے وفا کناروں کی موج کا لوٹنا ضروری ہے تجھ سے خوشبو ہے میرے لفظوں میں تیرے بن یے غزل ادھوری ہے قربتیں ہم بھی چاہتے ہیں مگر درمیاں فاصلہ ضروری ہے پاسداری تو ہے رویوں میں پر دلوں میں ابھی بھی دوری ہے

    مزید پڑھیے

    زندگی کی راہ میں اک موڑ ایسا آئے گا

    زندگی کی راہ میں اک موڑ ایسا آئے گا جس کے آگے ہر کوئی خود کو اکیلا پائے گا کون کتنا ضبط کر سکتہ ہے کرب‌ ہجر کو ریل جب چلنے لگے گی فیصلہ ہو جائے گا آج بھی اس روٹھنے والے سے یے امید ہے میری جانب دیکھ کر اک بار تو مسکائے گا اس طرح دے گا سزا اپنائیت کے جرم کی میں اسے اپنا کہوں وہ غیر ...

    مزید پڑھیے

    ظلمتوں میں جیتے ہیں، روشنی کے مارے ہیں

    ظلمتوں میں جیتے ہیں، روشنی کے مارے ہیں ایک ہی قبیلے کے چاند اور ستارے ہیں رتجگوں کے ساتھی ہیں، اشک، آہٹیں، خوشبو بس یہیں کہیں تو ہے یا بھرم ہمارے ہیں آج تک تو رسماً بھی تو نے یہ نہیں پوچھا ہم نے تیری فرقت میں کیسے دن گزارے ہیں اس نے میرے پہلو میں جھانک کر نہیں دیکھا چوٹ کتنی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ سہمی شرمائی خوشبو

    کچھ سہمی شرمائی خوشبو رات گئے گھر آئی خوشبو آنکھ کے روشن دان سے اتری دل میں ایک پرائی خوشبو آزادی کا ہاتھ پکڑ کر بازاروں میں آئی خوشبو تیز بہت بازار تھا اب کے میرے ہاتھ نہ آئی خوشبو تھک کر باسی ہو جانے سے پہلے گھر لوٹ آئی خوشبو رات کے سناٹوں میں بولے خاموشی تنہائی خوشبو

    مزید پڑھیے

تمام