Khurram Khaleeq

خرم خلیق

خرم خلیق کی غزل

    کیا لطف مسافت میں کہ ڈر کوئی نہیں ہے

    کیا لطف مسافت میں کہ ڈر کوئی نہیں ہے پانی کا سفر اور بھنور کوئی نہیں ہے پھر کون ہے ساحل پہ جو رکنے نہیں دیتا ویران جزیروں میں اگر کوئی نہیں ہے اک چاپ اترتی ہے در دل پہ ہر اک شب دیکھا ہے کئی بار مگر کوئی نہیں ہے تم میری مسافت کے لیے آخری حد ہو اب تم سے پرے راہ گزر کوئی نہیں ہے ہر ...

    مزید پڑھیے